خطبات وقف جدید — Page 199
199 حضرت خلیفتہ امسح الثالث پہلے یہ فرض تھا کہ وہ اس سے تعاون کرتی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ سارے پاکستان میں سب سے زیادہ بشاشت کے ساتھ اور تعاون کرتے ہوئے اور دل میں بھی کوئی بات نہ رکھتے ہوئے جماعت نے موجودہ نرخ کے لحاظ سے قریب پانچ کروڑ روپے کی جائیداد حکومت کے حوالے کر دی کیونکہ آخر یہ ملک ہمارا ہی ہے اور آئندہ پڑھ کر اور علم حاصل کر کے عمل کے میدان میں جانے والی نسلیں ہماری ہی ہیں۔پس ہم نے بڑی خوشی سے اس جائیداد کو قوم کے سپرد کر دیا لیکن جب جلسہ قریب آیا تو اسی انتظامیہ کے بعض افراد نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ عمارتیں جنہیں جماعت نے بنایا اور انہیں بشاشت کے ساتھ قوم کے سپر د کر دیا ہم قوم کے نمائندے تو ہیں لیکن ہم بشاشت کے ساتھ آپ لوگوں کو وہ عمارتیں نہیں دیں گے کہ آپ وہاں اپنے بھائیوں کو ٹھہرائیں۔پھر انہیں کچھ غیرت دلائی گئی اور سمجھایا گیا۔اللہ نے فضل کیا اور ان کو سمجھ آگئی۔لیکن ہمارے لئے آئندہ کیلئے ایک انتباہ کا سامان بھی پیدا ہو گیا ہے۔لیکن اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہمیں ایک توجہ دلائی گئی ہے۔وہ اس طرح پر کہ اس دفعہ بڑی کثرت سے مہمان آئے ہیں۔میں افسر جلسہ سالانہ بھی رہا ہوں وہ بھی ایک خدمت ہے لیکن جلسے کی ہر خدمت ہی بڑی پیاری خدمت ہے اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں جلسے کے دنوں میں جلسے کی خدمت سے فائدہ اٹھاتا رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا رہا ہوں کہ اس نے مجھے اس کی توفیق دی۔ہم نے وَسِعُ مَكَانَگ کا یہ نظارہ تو دیکھا ہے کہ ہمارے مکان کبھی بھی ہمارے مہمانوں کیلئے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کو تنگی سے گزارہ کرنا پڑتا رہا ہے لیکن یہ نہیں ہوا کہ بالکل ہی کم ہو جائیں اور پہلے برآمدوں کو قناتیں لگا کر رہائش کیلئے استعمال کیا جائے اور پھر چھولداریاں اور شامیانے لگا کر رہنے کیلئے گنجائش پیدا کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو جلسہ کے مہمانوں کیلئے آئندہ جلسہ سے پہلے کئی ہزار مربع فٹ جگہ شاید 50-40 ہزار مربع فٹ جگہ تعمیر کرنی پڑے گی خواہ وہ عارضی بیرکوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔اس سلسلہ میں ابھی سے سوچ کر اور جو سکیم بھی بنے اسکے مطابق جلسے سے قبل اس کو تیار کر دینا چاہیے کیونکہ اس سال مہمان جو کہ اہلِ ربوہ کیلئے برکتوں اور رحمتوں کی یاد دلانے والے ہیں وہ اپنے کناروں سے اس طرح چھلکے ہیں کہ سال میں عام طور پر جس شرح سے مکان بنتے ہیں اور جتنے مکان بنتے ہیں وہ ان کو نہیں سنبھال سکے۔مرکز کے مکانوں میں ہمیشہ ہی وسعت پیدا ہوتی ہے لیکن اس سال اتنی کثرت کے ساتھ مہمان آئے کہ سال بھر میں جو وسعتیں پیدا ہوئی تھیں ان کو تو ہم بھول ہی گئے اور ہمیں مہمانوں کو ٹھہرانے کی فکر رہی جن کی قربانی کو ہم کبھی بھول نہیں سکتے۔آنے والے بھی خدا تعالیٰ کی مرضات کے حصول کیلئے آتے ہیں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہیں