خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 191 of 682

خطبات وقف جدید — Page 191

191 حضرت خلیفتہ اسیح الثالث مقامات پر استفادہ کر رہے ہیں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم تھوڑا سا زور اُس ہند و علاقہ میں اور لگائیں تو بظاہر ایسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ شاید عنقریب ہزاروں کی تعداد میں وہ ہندو مسلمان ہو جائیں۔اس وقت اُن پر اسلام میں داخل ہونے کے خلاف دو طرف سے زور پڑرہا ہے۔ایک تو اندرونی مخالفت ہے اور دوسرے بڑے بڑے امیر اور تاجر پیشہ ہندو جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اُونچی ذات ہے وہ اُن پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کے دباؤ کے نیچے ویسے تو ہمیشہ سے غلاموں کی طرح تھے۔وہ ان کو قرض دیتے تھے اور سُو دوصول کرتے تھے۔بظاہر اُن پر احسان کرتے تھے اور اندر سے اُن کا خون چوستے تھے اور اُن کا دباؤ بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات ایسے پیدا ہور ہے ہیں کہ یہ لوگ اس دباؤ کو قبول نہیں کر رہے۔پس اُس جگہ کام میں اضافہ ہونا چاہیے جس کے لیے پیسے کی بھی ضرورت ہے اور جس کے لیے مخلصین معلمین واقفین زندگی کی بھی ضرورت ہے جو وقف جدید میں کام کرنے والے ہوں۔کام میں وسعت پیدا ہورہی ہے اور نتائج میں برکت پیدا ہو رہی ہے۔اس لیے ہمارے نوجوان اور وہ لوگ جو ہمت اور عزم کے لحاظ سے جوان ہیں انہیں آگے آنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے کاموں کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہیے۔گذشته سال وقف جدید کے چندہ میں پچاس ہزار کچھ سوروپے کا اضافہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت ہمت کرے اور اس سال یعنی سال رواں میں جو یکم جنوری سے شروع ہوا ہے جس کا اس وقت میں اعلان کر رہا ہوں ایک لاکھ روپیہ مزید دیدے اور وقف جدید کو میں کہوں گا کہ جو آپ کی زائد آمدنی ہوا سے کوئیں اس علاقہ میں خرچ کریں جہاں ہندو مسلمان ہو رہے ہیں تو آپ کے لیے بڑی برکت کا باعث ہے اور اسلام کے لیے بڑی خوشی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔وہ جو اس سے دور چلے گئے تھے ، وہ جو اسے چھوڑ کر مورتیوں کی پرستش کرنے لگ گئے تھے وہ اسکی طرف آئیں گے تو اس کا پیار ان لوگوں کے لیے جلوہ گر ہوگا۔اگر چہ یہ الفاظ اس عظیم ہستی جو ہمارا رب اور خالق و مالک ہے کے لیے اس معنی میں استعمال نہیں ہو سکتے جس معنی میں ہمارے اپنے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن ہم تمثیلی زبان میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ لیے بھی استعمال کر دیتے ہیں کہ ہمارا رب بھی بڑا خوش ہوگا کہ اس کے بھٹکے ہوئے بندے اس کی طرف واپس آگئے۔پس اس اعلان کے ساتھ میں وقف جدید کے نئے سال کی ابتدا کا اعلان کرتا ہوں اور اس امید پر کہ جماعت ایک لاکھ روپیہ زائد چندہ اس وقف جدید کے انتظام کو دے گی اور اس ہدایت کے ساتھ کہ وقف جدید والے اس کا بڑا حصہ اس علاقے میں خرچ کریں گے جہاں ہندو بستے ہیں اور اس وقت ان کی