خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 12 of 682

خطبات وقف جدید — Page 12

12 حضرت مصلح موعود ابھی تک کنڈیاں ڈالتے رہے ہیں ان کی وجہ سے ایک مچھلی ہی ہمارے ہاتھ میں آتی رہی ہے لیکن اب مہا جال ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس کے ذریعہ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جائے۔بلکہ ہر گاؤں کے ہر گھر تک ہماری پہنچ ہو۔پہلے لڑکوں اور لڑکیوں تک ہماری پہنچ ہو پھر لڑکوں اور لڑکیوں کے ماں باپ تک ہماری پہنچ ہو اور اس کے بعد سارے گاؤں تک ہماری پہنچ ہو جائے ، پھر گاؤں سے نکل کر چار چار پانچ پانچ میل تک کے دیہات میں ہماری پہنچ ہو جائے اور پھر یہ دائرہ دس دس پندرہ پندرہ میل تک وسیع ہو جائے اس کے بعد اور ترقی کرے اور یہ دائرہ میں تمیں میل تک چلا جائے پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ 45 میل تک چلا جائے پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ 60 میل تک چلا جائے پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ 75 میل تک چلا جائے پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ 90 میل تک چلا جائے پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ 105 میل تک چلا جائے۔پھر اور ترقی کرے اور یہ دائر 0 120 میل تک چلا جائے۔گویا اگر ہم صرف ہیں سکول کھول دیں اور 15 ، 15 میل کے دائرہ میں ایک سکول رکھیں تو 300 میل تک ہمارا دائرہ بڑھ جاتا ہے اور اگر 20 سکول ایک طرف ہوں اور 20 سکول دوسری طرف ہوں تو 300 میل ادھر اور 300 میل اُدھر ہمارا دائرہ بڑھ جاتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا دائرہ 90 ہزار مربع میل تک وسیع ہو جاتا ہے اور سارے پنجاب کا رقبہ 62 ہزار مربع میل ہے غرض اگر ہم اس تجویز پر عمل کریں تو رفتہ رفتہ سارا مغربی اور مشرقی پاکستان اس کے احاطہ میں آ جاتا ہے پس جب تک ہم اس مہا جال کو نہ پھیلائیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔تین چار سال تک جیسا کہ میں نے بتایا ہے مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہونے پر ہمیں ایسے نوجوان مل جائیں گے جو دین کی خدمت کے لئے آگے آجائیں گے اور ان کے لئے بظاہر اور کوئی کام نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے مولوی فاضل کی ڈگری کو اڑا دیا ہے پہلے لڑکے مولوی فاضل پاس کر کے گورنمنٹ سروس میں چلے جاتے تھے، اس لئے اب ہم نے مولوی فاضل کو اڑا دیا ہے ہم انھیں اپنے ہی امتحان پاس کرائیں گے تاکہ وہ فارغ ہو کر دین کی خدمت کریں آخر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ہزاروں روپیہ خرچ کر کے فارغ التحصیل نوجوان گورنمنٹ کو دے دیں اور وہ انھیں اپنے سکولوں میں لگا لے۔اب جو نو جوان تعلیم حاصل کریں گے۔وہ مجبور ہونگے کہ دین کی خدمت کریں۔بیشک سلسلہ بھی مجبور ہوگا کہ ان کے کھانے پینے کا مناسب انتظام کرے۔لیکن وہ بھی مجبور ہونگے کہ اپنے کھانے پینے کا سامان سلسلہ سے آکر لیں اور اپنی خدمات سلسلہ کے لئے وقف کریں باہر جا کر ان کو کچھ نہیں ملے گا اور ان کو نہ رکھ کر سلسلہ کو کچھ نہیں ملے گا گویا دونوں ایک دوسرے کے گلے میں رسی باندھے ہوئے ہونگے۔مدرسہ احمدیہ کی تعلیم سے فارغ ہونے والے نوجوانوں نے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے گلے میں رسی باندھی