خطبات وقف جدید — Page 180
180 حضرت خلیفة المسیح الثالث بھی ہے چند گھنٹے انسان خدا کی راہ میں کام کرتا ہے۔پھر ہر نماز میں کہتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِینُ یعنی جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے میں نے وہ تیری راہ میں خرچ کر دیا۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس دو گھنٹے کے وقفہ میں مثلاً جو آج کل ظہر اور عصر کے درمیان ہوتا ہے اس میں خدا نے کچھ نہیں دیا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے بندے تو ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس سے مزید حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔عصر کے وقت حقیقتاً مبالغہ کے طور پر نہیں ) بندے کا ايَّاكَ نَعْبُدُ کا مقام ظہر کے مقابلہ میں آگے ہوتا ہے اور پھر کہتا ہے اے خدا مغرب کے وقت تک مجھے اور آگے لے جا۔یہ حرکت روحانی جو لازمی قرار دی گئی ہے ( یعنی نمازوں کی ادائیگی حرکت روحانی ہے ) اس میں دو گھنٹے کا وقفہ ہے اور ہر نماز میں سورۃ فاتحہ کو پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز میں ہمیں کہا گیا ہے کہ خدا سے یہ دعا کرو کہ جو تو نے ہمیں اس عرصے میں بھی دیا اسے بھی ہم نے تیری راہ میں خرچ کر دیا تیرا ہی عطا کردہ ابدی ترقیات کا جو جذبہ ہے اس کی وجہ سے ہم ایک جگہ کھڑے نہیں رہ سکتے۔پھر مغرب کی نماز میں پھر عشا کی نماز میں ( نوافل میں چھوڑ رہا ہوں ) پھر صبح کی نماز میں نوافل کی توفیق ملتی ہے۔نوافل کی توفیق مغرب اور صبح کے درمیان اس لئے ملتی ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ عشا کے وقت کہنے کے بعد اس نے ایساک نَسْتَعِينُ کی بھی دعا کی تھی۔تو یہ چھوٹے سے چھوٹا جو وقفہ ہمارے سامنے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے تسلسل کو قائم رکھنے اور جاری رکھنے کا آتا ہے۔نمازوں کے درمیان ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا یہ چھوٹے سے چھوٹا وقفہ ہے پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ خدا نے تمہارے لیے عید بنا دیا ہے، ایک دوسری اکائی ہے یعنی جمعہ سے جمعہ تک ہر روز لازمی طور پر پانچ دفعہ توفیق دیتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہر ہفتہ 35 دفعہ لازمی طور پر اس نے ایاک نَعْبُدُ بھی کہا اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بھی کہا۔پھر جمعہ آتا ہے اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔پھر ایساک نَعْبُدُ کہتے ہیں اور خدا سے کہتے ہیں۔اے خدا پچھلے جمعہ ہم نے کہا ايَّاكَ نَعْبُدُ اور ہم نے کہا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ تُو نے ہماری دعا کو قبول فرمایا (جمعہ کی نماز ایسی ہے کہ جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو قبولیت دعا کی گھڑی ہے) میں اس گھڑی کو لیتا ہوں۔میں جماعت کی اجتماعی زندگی کے متعلق بات کر رہا ہوں۔کوئی ہم میں سے کمزور ہے، کوئی بزرگ ہے اجتماعی زندگی کے لحاظ سے میں یہ لے رہا ہوں کہ جمعہ کو وہ دعا کی گھڑی آئی تو بعض احمد یوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ( جو نہیں اٹھا سکے انہیں اللہ تعالیٰ فائدہ اٹھانے کی توفیق دے) اور اس گھڑی میں خدا تعالیٰ کے مومن بندے نے کہا ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔یعنی جو قو تیں اور طاقتیں تو نے دیں ان کے مطابق میں نے تیری عبادت کی اور پرستش کی اور میں نے آگے بڑھنا ہے اس