خطبات وقف جدید — Page 179
179 حضرت خلیفة المسیح الثالث دس دس ہزار ہیں ہیں ہزار پچاس پچاس ہزار روپیہ ان کے پاس جمع بھی ہے اور گلیوں اور بازاروں میں اپنے دوسرے بھائیوں کے سامنے مانگنے والا ہاتھ انہوں نے آگے بھی کیا ہوا ہے۔اس طرح کئی لوگ ایسے ہیں کہ جو انکے پاس ہے اسے خرچ نہیں کرتے اور خدا کو کہتے ہیں کہ اور دے۔فقیر جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اسے تو معلوم نہیں کہ اسکے گھر میں رات کی روٹی ہے یا نہیں۔نہ اسے یہ علم ہے کہ اسی تجوری یا تھیلی میں پانچ دس میں پچاس لاکھ روپیہ ہے۔جب نوٹ کینسل ہوئے اور کہا گیا کہ پرانے نوٹ لاؤ تو بعض ایسے فقیروں کا ذکر بھی اخباروں میں آیا) واللہ اعلم کہاں تک یہ درست ہے ) جن کے پاس لاکھوں روپیہ تھا اور پھر بھی وہ بھیک مانگ رہے تھے اور دینے والا انکو دے رہا تھا اور اسکے بھائی کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ بے چارا! اسکے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔پیسہ اس کے پاس نہیں کہیں رات کو بھوکا نہ سو جائے اس کو دے دو۔لیکن جو ہاتھ خدا تعالیٰ کے سامنے پھیلایا جاتا ہے وہ ایک ایسی ہستی کے سامنے پھیلایا جاتا ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے میں نے تجھے دیا اور تو نے میری راہ میں خرچ نہیں کیا۔اب میرے سامنے ہاتھ کیوں پھیلا رہا ہے۔آگے ایاک نَعْبُدُ کا مقام جو آج کے دن کا مقام ہے اسے حاصل کر۔جو کچھ میں نے تجھے دیا قوت اور طاقت اور استعداد کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا عقل اور فراست کے لحاظ سے ، جو کچھ میں نے تجھے دیا قرآن عظیم جیسی ہدایت اور نبی اکرم ﷺ کے اسوہ کے لحاظ سے۔یہ جو تجھے چیزیں ملیں پہلے ان سے انتہائی فائدہ اٹھا۔پھر میرے پاس آ۔میرے خزانے خالی نہیں ہیں لیکن تیری ساری قوتیں میری راہ میں خرچ ہونے کے بعد میرے سامنے تیرا دستِ سوال پھیلنا چاہیے۔پھر انسان خرچ کرنے کے بعد یعنی ”جو کچھ ہے پورے کا پورا خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دینے کے بعد خدا سے کہتا ہے کہ جہاں تو نے مجھے اتنا کچھ دیا اور مجھے یہ توفیق بھی دی کہ میں تیری راہ میں سارا کچھ خرچ کر دوں وہاں تو نے مجھے یہ جذبہ اور جوش بھی دیا ہے کہ میں کسی مقام سے تسلی نہ پکڑوں کیونکہ تیرے قرب کے مقامات کی کوئی انتہا نہیں آگے بڑھنے کیلئے میرے رب مجھے اور دے۔،، صلى الله پھر جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد مخلصانہ دعا اِيَّاكَ نَسْتَعِینُ کی ہوتی ہے تب خدا تعالیٰ اسے اور قوت دیتا ہے اور تب خدا تعالیٰ اسے جو قوت دیتا ہے اسے لیکر وہ اور آگے بڑھتا ہے پھر ایک اعلیٰ مقام پر کھڑا ہوتا ہے پھر کہتا ہے۔اے خدا تو نے مجھے جو طاقتیں دیں وہ تیری راہ میں خرچ ہو گئیں اب مجھے اور دے کیونکہ جو طاقتیں ملیں ان کے خرچ کرنے پر تو ایک جیسا ثواب ملتا رہے گا۔اگر مجھے مزید ثواب ملتا ہے اور ترقی کی مزید راہیں کھلتی ہیں تو ضروری ہے کہ تو مجھے اور طاقتیں دے پھر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے کہ اے خدا میری مددکو آ۔میں یہاں کھڑا ہو گیا ہوں جو کچھ تو نے دیا تھا وہ اب استعمال کر چکا۔یہ سلسلہ چند گھنٹوں کا