خطبات وقف جدید — Page 178
178 حضرت خلیفہ امسح الثالث خلاصہ خطبہ جمعہ فرموده 29 / دسمبر 1972 ء بیت اقصیٰ ربوہ) سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورہ فاتحہ کی حسب ذیل آیات دوبارہ پڑھیں :۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پھر فرمایا: اللہ تعالی ہی ہر قسم کی تعریف اور حمد کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی اس جماعت کو یہ توفیق عطا کی کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اس کی خدمت میں سال کے دن رات گزار کے جلسہ سالانہ میں شمولیت بالواسطہ یا بلا واسطہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی تفسیر میں یہ مضمون بیان کیا ہے اور بڑا حسین نکتہ نکالا ہے کہ خدا کے کسی بندے کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کا حق تبھی حاصل ہوتا ہے جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہنے کی اہلیت وہ اپنے اندر پیدا کر لے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے معنی ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہمیں اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا اور تو نے ہمیں روحانی قوتیں عطا کرنے کے بعد ایسی تمام مادی اشیاء بھی عطا کیں جن کی ضرورت ان قوتوں کی نشو و نما کیلئے تھی اور ہم نے تیری توفیق سے تیری عطا کردہ قوتوں کو انتہائی طور پر استعمال کر کے تیرے حضور اپنی پیشکش کی۔جب تک ان قوتوں سے انسان فائدہ نہ اٹھائے جواللہ تعالی نے عطا کی ہیں ، اس وقت تک وہ حقیقی معنی میں ایساک نَعْبُدُ نہیں کہہ سکتا۔جب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب قوتوں سے انتہائی فائدہ حاصل کر لے تب وہ کہہ سکتا ہے کہ تو نے اپنا بندہ اور عبد بننے کیلئے جو طاقتیں ہمیں دی تھیں ہم نے ان کا صحیح اور انتہائی استعمال کر لیا اور چونکہ تو نے ہمارے اندر آ گے ہی آگے بڑھنے کا جذبہ اور جوش پیدا کیا ہے۔اسلئے اس مقام پر ہمارے دل تسلی نہیں پکڑتے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم یہیں کھڑے رہیں۔اسلئے جو قوتیں تو نے ہمیں عطا کیں انکے مطابق ہم نے اپنی طرف سے اپنی بساط کے مطابق کوشش کی ، اب آگے بڑھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہماری قوت میں اضافہ ہو ،اس واسطے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ہم تیری مدد مانگتے ہیں تجھ سے استعانت چاہتے ہیں کہ تو ہمیں مزید طاقت دے تا کہ تیری راہ میں ہم آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں۔کئی فقیر آپ کو نظر آئیں گے یا بعض ہنگامی حالات میں ان کی یہ حالت آپ کے سامنے آئیگی کہ