خطبات وقف جدید — Page 176
176 حضرت خلیفة اصبح الثالث کریں اور اہلیت کو بڑھا ئیں۔مرکزی دفتر کو کسی ایک آدمی کیلئے پریشانی کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔وقف جدید والوں نے رسالے اور کچھ کتب اور پمفلٹ وغیرہ شائع کروانے کی بھی ایک سکیم بنائی ہوئی ہے اور غالباً وہ اس سلسلہ میں کچھ کام بھی کرتے ہیں وہ تسلی بخش نہیں ہے۔دراصل کسی کا کام بھی تسلی بخش نہیں ہے۔اس وقت مجھے سب سے زیادہ پریشانی اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ہم کتب وغیرہ شائع تو کر دیتے ہیں مگر اس کی تقسیم کا کوئی معقول اور مناسب اور حسب ضرورت انتظام نہیں ہے۔تا ہم اس کام کیلئے تو میں شاید ایک کمیٹی بناؤں ہماری اس وقت جو مختلف انجمنیں ہیں وہ کمیٹی ان کے متعلق غور کرے گی لیکن اس کی طرف فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور فوری سے میری مراد یہ ہے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر ہماری آبادی کے ایک فیصد کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہو جائے گا۔شاید آپ حیران ہوں کہ اتنی معمولی سی سکیم کیوں بنادی۔دراصل میں یہ چاہتا ہوں کہ چھ لاکھ ایسے بھائیوں کے ساتھ ہمارا تعلق پیدا ہو جائے کہ جب اور جو چیز ہم ان تک پہنچانا چاہیں وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر ان تک پہنچ جائے۔آپ یہ سنکر حیران ہونگے کہ ہم اس وقت چھ لاکھ تو کجا چھ ہزار تک بھی اپنی بات ایک ہفتہ کے اندر اندر نہیں پہنچا سکتے اور یہ بڑی خامی ہے اس طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی۔ہمارے جو مبلغ ہیں ان کا یہ حال ہے کہ دیر کی بات ہے خلافت سے پہلے میں ایک دفعہ مری گیا۔حضرت صاحب کے نام خیبر لاج الاٹ ہوئی ہوئی ہے اس کا جھگڑا چل رہا ہے ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا۔جو فیصلہ ہوگا ٹھیک ہوگا۔وہ ہمیں ملے یا نہ ملے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بہر حال وہ اس وقت بھی ہمارے پاس تھی اور وہاں ہمارے مربی صاحب رہ رہے تھے کیونکہ وہ خالی پڑی ہوئی تھی۔ہم یعنی حضرت صاحب کے بچوں میں سے بہت سارے وہاں جانا چاہتے تھے یا شاید حضرت صاحب خود تشریف لے جانے والے تھے یہ تفصیل مجھے یاد نہیں رہی۔چنانچہ اس کو خالی کروانے کے لئے جب میں وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک کمرہ قریباً چھت تک بھرا ہوا تھا ان کتب اور رسائل سے جو پہلے چار پانچ سال سے اصلاح وارشاد والے اس مبلغ کو تقسیم کرنے کیلئے بھجواتے رہے تھے۔یہ دیکھ کر میرے ہوش گم ہو گئے کہ اتنا ظلم ! ہماری ایک غریب جماعت ہے پھر اس پر ظلم یہ کہ ہم سے سستیاں، غفلتیں اور گناہ ہو جاتے ہیں۔جتنا ہم شائع کرنا چاہتے تھے وہ بھی نہیں شائع ہوا اور جو شائع ہوا ہے اس کا یہ حشر کہ کئی سالوں کا اکٹھا کیا ہو لٹریچر جس کو اٹھانا مشکل ہو گیا۔پس ہمیں اس طرف فوری توجہ کرنی چاہیے۔اب مثلاً ہم ایک رسالہ شائع کرنا چاہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور عشق حضرت