خطبات وقف جدید — Page 173
173 حضرت خلیفه لمسیح الثالث طرح شاہدین میں سے بھی کچھ کاٹنے پڑتے ہیں ہر سال کچھ چھانٹی کرنی پڑتی ہے۔نتیجہ بہت تھوڑا نکلتا ہے خرچ بڑا ہوتا ہے۔ہمارے وسائل محدود تھے اور جو مبلغین ہم تیار کر رہے تھے ان پر فی کس خرج بہت زیادہ تھا لیکن یہ کام اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑا اہم ہے اس لئے اسے جاری رکھنا ضروری تھا۔پس ایک طرف یہ چیز تھی اور دوسری طرف وسعت پیدا کرنی تھی۔اب میں سوچتا ہوں کہ جس طرح میرے دماغ میں آیا ہے حضرت مصلح موعودؓ کے دماغ میں بھی یہی بات آئی تھی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کام میں وسعت پیدا کریں اور وسعت پیدا کریں ان لوگوں کے ذریعہ جو تھوڑا گزارہ لیں اور وقف کی روح کے ساتھ آئیں۔چنانچہ آپ نے ایک خطبہ میں ہزاروں کی سکیم بنادی۔آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا اب وہ ہیں سال کے بعد پوری ہوتی ہے یا پچاس سال کے بعد پوری ہوتی ہے یہ ایک علیحدہ بات ہے۔لیکن آپ نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کر دیا 72 لاکھ روپے آمد ہوسکتی ہے اور اس کے مطابق ساٹھ روپے ماہوار پر کئی ہزار آدمی رکھے جا سکتے ہیں۔ویسے اب تو حالات بدل گئے ہیں میرے خیال میں اب ساٹھ روپے کی بجائے نوے روپے دیئے جا رہے ہیں۔بایں ہمہ آدمی کم آرہے ہیں۔انسان سوچتا ہے، فکر و تدبر کرنے والا انسان بالعموم ایک منصوبہ بناتا ہے کہ اگر وہ اسطرح کام کرے تو اپنے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مگر وقف جدید کے کام کے لحاظ سے جماعت کو اس طرف توجہ نہیں۔کچھ تو توجہ ہے میں یہ نہیں کہتا کہ بالکل توجہ نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جتنی اس حصے کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی اس کا دسواں حصہ توجہ ہے نوے فی صد توجہ نہیں ہے۔معلمین اصلاح وارشاد جماعتی تنظیم کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ان سے زیادہ پڑھے لکھے شاہدین بھی کام کر رہے ہیں۔مگر پچاس ساٹھ شاہدین کے علاوہ صرف ساٹھ ستر نیم پڑھے معلمین وقف جدید ر کھنے سے کیا فائدہ ہے کیونکہ جو اصل غرض تھی وہ تو ان کے ذریعہ پوری نہیں ہوئی۔اصل تخیل تو یہ تھا کہ کام میں یک دم وسعت پیدا کر و۔اب جو معلم بنتے ہیں وہ آٹھویں جماعت تک پڑھے ہوتے ہیں۔انہیں ایک سال کا یہاں کورس کراتے ہیں ان کی حالت تو نیکی سی شاخ کے مانند ہے جس طرح آم کی ٹہنی جب نکلتی ہے تو بڑی کمزور ہوتی ہے تاہم یہ بیج لگانا ہمارا مقصد ہے تنا تو بعد میں بنے گا پھل تو بعد میں آئیں گے لیکن آپ نے تو وہ بیچ بھی نہیں لگایا 70-80 کے اوپر آکر ٹھہر گئے۔ستر اسی معلمین وقف جدید کی تعداد اس وسیع منصوبے کے لحاظ سے جو حضرت مصلح موعودؓ نے بتایا تھا ایک ضلع کیلئے بھی کافی نہیں ہے ایک تحصیل کیلئے شاید کافی ہو۔وہ بھی شاید ہی ایسا ہو۔تاہم سمجھتے ہیں کہ ایک تحصیل کیلئے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو موجودہ کوشش اور جدو جہد اور منصوبہ ہے اس میں اگر ہم مغربی پاکستان ہی کو لے لیں کیونکہ اس وقت مشرقی