خطبات وقف جدید — Page 11
11 حضرت مصلح موعود خطبه جمعه فرموده 3 جنوری 1958ء بمقام ربوہ سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پہلے بھی ایک خطبہ میں بیان کیا تھا اور پھر جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اپنی ۲۷ / دسمبر کی تقریر میں بیان کیا تھا کہ جماعت کے وہ دوست جنھیں سلسلہ کی تبلیغ سے لگاؤ ہو یا تعلیم و تدریس کا شوق رکھتے ہوں وہ جماعت کی ترقی کے لئے اپنے آپ کو نئے وقف کے ماتحت پیش کریں سلسلہ ان کی مدد کرے گا اور خود بھی ان کو کمائی کرنے کی اجازت دے گا۔اس طرح ان کا عمدگی سے گزارہ ہوتا رہے گا۔چار پانچ سال تک امید ہے کہ مدرسہ احمد یہ جدید جو قائم ہوا ہے اس کی چار پانچ جماعتیں نکل آئیں گی اور چونکہ یہاں اردو میں پڑھائی ہے اس لئے وہ نو جوان پرائمری تک اردو میں تعلیم دے سکیں گے اور ساتھ ہی وہ واعظ اور مبلغ بھی ہونگے لیکن اس کے درمیان جو وقفہ ہے اس کو پُر کرنے کے لئے ہمیں واقفین کی ضرورت ہے مجھے افسوس ہے کہ جلسہ سالانہ سے پہلے تو بعض نوجوانوں کی درخواستیں آتی رہیں کہ ہم اپنے آپ کو اس سکیم کے ماتحت وقف کرتے ہیں لیکن جب میں نے وقف کی شرائط بیان کیں تو پھر ان میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہم اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہماری جماعت کو یا درکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹہ ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب میری اس نئی سکیم پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب میں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دیئے جائیں جو اس علاقہ کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں وہ انھیں پڑھائیں بھی اور رشد و اصلاح کا کام بھی کریں اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلا یا جائے کہ کوئی مچھلی باہر نہ رہے کنڈی ڈالنے سے صرف ایک ہی مچھلی آتی ہے لیکن اگر مہا جال ڈالا جائے تو دریا کی ساری مچھلیاں اس میں آجاتی ہیں ہم