خطبات وقف جدید — Page 157
157 حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے اس کے دل میں یہ احساس بیدار رکھنا ہے کہ جو خدا کی راہ میں جو مال دیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں جاتا جیسا کہ ہماری تاریخ اس پر شاہد ہے۔ایک سے دس ہزار گنا زیادہ ہو کر وہ واپس ملتا ہے ( اس دنیا میں ) اب سال کے دو مہینے باقی رہ گئے ہیں میں یہ درخواست کرتا ہوں اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جماعت اس کی طرف فوری توجہ دے گی اور پندرہ دسمبر سے پہلے پہلے تمام وعدے پورے ہو جائیں گے، اطفال کے بھی اور جو بڑوں کے وعدے ہیں وہ بھی۔اس میں بھی کافی کمی ہے۔ہمارا بجٹ تو دو لاکھ سترہ ہزار کے قریب، ہمارے وعدے تھے ایک لاکھ پچانوے ہزار نو سو کے قریب۔ہماری آمد دس مہینے کی ہے ایک لاکھ سینتیس ہزار۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم ساٹھ ہزار کے قریب ان دو مہینوں میں آمد ہونی چاہئے اور بچوں کی طرف سے کم از کم بائیس ہزار آٹھ سو روپیہ آمد ہونی چاہئے۔یہ بائیس ہزار اس ساٹھ ہزار میں شامل ہیں۔لیکن اس سے بھی وقف جدید کی ضرورت پوری نہیں ہوتی کیونکہ مشاورت کے موقع پر دوستوں نے اس چیز کو محسوس کیا کہ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ مربی ہونے چاہئیں اور جو دوست وقف عارضی کے سلسلہ میں باہر جماعتوں میں جاتے ہیں ان میں سے بیسیوں نے مجھے خطوط لکھے کہ اس جماعت کو ضرورت ہے آپ کسی معلم کو یہاں بھجوائیں اور ہر خط کے اوپر میں فکرمند ہو جاتا ہوں کہ ضرورت ہے مگر معلم نہیں میں آدمی کہاں سے لاؤں؟ اور میں نے پہلے بھی متعدد بار تحریک کی ہے اور اب بھی تحریک کرتا ہوں کہ وقف جدید کو معلم بھی دیں ایسے معلم جو واقع میں اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کرنا چاہیں ایسے معلم نہیں جو یہ سمجھیں کہ دنیا میں کسی اور جگہ ان کا ٹھکانہ نہیں ، چلو وقف جدید میں جا کے معلم بن جائیں۔سمجھدار، دعا کرنے والے، خدا اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تفسیر قرآن بیان کی ہے اس سے دلی لگاؤ رکھنے والے، اسے پڑھنے والے، یا درکھنے والے اور خدمت کا بے انتہا جذ بہ رکھنے والے۔جس کے دل میں خدمت خلق کا جذبہ نہیں وہ معلم نہیں بن سکتا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ دنیوی لحاظ سے یا دینی لحاظ سے ہم اپنے بھائی کو جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ خدمت کے جذبہ کے نتیجہ میں دیتے ہیں اس کے بغیر ہم دے ہی نہیں سکتے۔اپنا وقت اس کو دیں، اپنا مال اس کو دیں، اپنی زندگی اس کو دیں دنیا کی کسی بہبود کے لئے یا آخرت کی کسی بہبود کے لئے۔جب ہم قرآن کریم اس کو سکھا رہے ہوتے ہیں ، جب ہم نبی کریم علی کے ارشاداس کے سامنے رکھ رہے ہوتے ہیں یا ہم اس کی خاطر اس کا کوئی دنیوی کام کرانے کے لئے اس کے ساتھ باہر نکلتے ہیں ہر دو صورتیں جو ہیں وہ اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہمارے دل میں خدمت خلق کا جذبہ ہے۔اگر خدمت خلق کا جذبہ نہ ہو نہ دینی لحاظ سے نہ دنیوی لحاظ سے تو ہم اس کی خدمت کے لئے باہر نہیں نکل سکتے۔پس ہمیں ایسے بے نفس خدمت گذار معلم چاہئیں۔صلى الله