خطبات وقف جدید — Page 156
156 حضرت خلیفة المسیح الثالث دوستوں کو یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ وقف جدید کی طرف آپ توجہ کریں۔میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور یہ امید ظاہر کی تھی کہ اگر ہمارے اطفال اور ناصرات اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کے والدین اپنے بچوں کی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کی برکت کا سامان پیدا کرنا چاہیں تو جو چھوٹے بچے ابھی نا سمجھ ہیں ان کی طرف سے بھی وقف جدید کے چھ روپے دیں تو اللہ تعالیٰ بڑی برکت ڈالے گا اور جن کو تھوڑا بہت شعور حاصل ہو گیا ہے ان کے سامنے والدین یہ بات رکھیں کہ خدا تعالیٰ ایک فقیر اور بھکاری کے رنگ میں تمہارے سامنے نہیں آتا ( نعوذ باللہ ) بلکہ ایک دیالو، ایک محسن فضل کرنے والی ہستی کے طور پر تمہارے سامنے آتا ہے اور تمہیں کہتا ہے کہ میری راہ میں اموال خرچ کرو اگر تم اس دنیا میں بھی دس ہیں ہزار گنا زیادہ اموال کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو اگر سارے کے سارے اطفال و ناصرات اس طرف توجہ کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ سارا بوجھ قریباً ہمارے اطفال اور ناصرات اٹھا سکتی ہیں یا مجھے یوں کہنا چاہئے کہ جماعت کے وہ بچے جن کی عمر ابھی پندرہ سال کی نہیں ہوئی ایک منٹ کی عمر سے لے کے پندرہ سال کی عمر تک جتنے بچے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دئے ہیں اگر ان کی طرف سے یا وہ خود اگر وہ کچھ شعور رکھتے ہیں، وقف جدید کے لئے کم از کم چھ روپے سالانہ دیں جو کوئی ایسی بڑی رقم نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے بچپن سے ہی برکات کے سامان پیدا کرنے شروع کر دے گا۔بعض خاندان بچوں کی طرف سے بنک میں رقم جمع کرنی شروع کر دیتے ہیں پہلے مہینہ سے ہی بعض دوسرے تیسرے سال سے کہ جب یہ بڑے ہونگے تو ان کے یہ کام آئے گی تو بنکوں کی رقموں نے کیا بڑھنا ہے ضائع ہونے کا تو اندیشہ ہے لیکن اس قدر بڑھوتی کا وہاں کوئی سامان نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں تو ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں اور بڑھوتی کے اتنے سامان ہیں کہ ایک روپیہ آپ کی طرف سے خدا تعالیٰ کے بنک میں جمع کرائیں گے ریزرو کے طور پر تو جس وقت وہ بڑے ہونگے اللہ تعالیٰ ان کو ایک کی بجائے دس ہزار یا شاید اس سے بھی زیادہ دے گا۔بچوں کی طرف سے چونتیس ہزار آٹھ سو کے وعدے سال رواں کے ہوئے تھے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ تمام احمدی بچوں کو اس طرف توجہ نہیں دلائی گئی اور تمام احمدی ماں باپ نے اپنے بچوں کی بہبود کی طرف توجہ نہیں دی۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں اطفال و ناصرات اور چھوٹے بچے ایسے تھے جنھوں نے اس مد میں حصہ لیا لیکن اس وقت تک کہ دس مہینے سال کے گزر چکے ہیں وعدوں کے مقابل آمد بڑی کم ہے اور یہ بڑی فکر کی بات ہے۔آپ نے بچپن میں بچے کو یہ عادت نہیں ڈالنی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ تو کرے مگر پورا نہ کرے۔آپ نے تو اس کو یہ عادت ڈالنی ہے کہ جب وہ خدا سے وعدہ کرے تو زمین و آسمان ٹل جائیں اس کا وعدہ پورا ہو۔اور آپ