خطبات وقف جدید — Page 9
حضرت مصلح موعود پیداوار ہیں ایکٹر زمین سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔مثلاً امریکہ سے مجھے مکئی کا ایک نمونہ آیا تھا اس مکئی کے متعلق فرم والوں نے لکھا تھا کہ اس سے فی ایکڑ سال میں ہم 50 سے 100 من تک پیداوار حاصل کرتے ہیں لیکن ہم ایک ایکڑ سے صرف ہیں پچیس من پیدا کرتے ہیں۔اگر اتنی پیداوار ہمارے ملک میں بھی ہونے لگ جائے تو یہ آٹھ ایکڑ زمین 32 ایکڑ کے برابر ہو جائے گی۔پھر اگر ہم اس میں گندم بوئیں تو اور زیادہ آمد ہوگی ، اگر کتا بو ئیں تو آمد اور بھی بڑھ جائے گی۔پشاور کی طرف گنا عام بویا جاتا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں تھوڑی تھوڑی زمین سے بھی بڑی آمد پیدا کی جاتی ہے۔اور معمولی معمولی زمیندار بھی بڑے دولت مند ہوتے ہیں وہاں زمین کی بڑی قدر ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ اس علاقہ کی ایک لڑکی جو بڑی مخلص احمدی ہے میرے پاس آئی۔اس کے باپ نے جو بڑا زمیندار تھا اپنی زمین میں سے لڑکوں کے ساتھ اپنی اس لڑکی کو بھی حصہ دے دیا تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ میرے باپ نے مجھے 275 جریب زمین دیدی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اسے 1137 ایکڑ زمین مل گئی تھی۔پس اگر زمینیں رکھنے والے دوست آٹھ آٹھ دس دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کریں۔تو ہمارا واقف زندگی بڑی عمدگی سے گزارا کر سکتا ہے۔چک منگلا اور چنڈ بھروانہ کی طرف جو احمدی ہوئے ہیں ان میں سے بالعموم جو احمدی یہاں آتا ہے وہ کہتا ہے میری زمین 8 مربعے ہے۔دوسرا کہتا ہے کہ میری زمین سولہ مربعے ہے تیسرا کہتا ہے میری زمین 40 مربعے ہے۔8 مربعوں سے کم تو مجھے کسی نے بھی زمین نہیں بتائی۔اور جس احمدی کے پاس 8 مربعے زمین ہو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ دوسو ایکڑ کا مالک ہے اور جس کے پاس 40 مربعے زمین ہے اس کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین ہے۔اور اس قدر زمین میں سے 18 یکٹر اس سکیم کیلئے وقف کر دینا کونسی مشکل بات ہے۔یہ علاقہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں۔جن کی ایک عورت کی مثال کل میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بیان کی تھی۔وہ بیعت کرنے یہاں آئی ہوئی تھی کہ شام کو اس کی بیٹی بھی یہاں آگئی اس نے کہا اماں تو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے وہ لوگ تو میری بات سنتے ہی نہیں تو نے مجھے جو کتا بیں دیں تھیں میں انھیں پڑھ کر سناتی ہوں تو وہ سنتے ہی نہیں۔میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو وہ جنسی اور مذاق کرتے ہیں اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔وہ عورت کہنے لگی بیٹی تو میری جگہ آکر اپنے والد بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا۔میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا میں ان سب کو احمدی بنا کر ہی دم لوں گی۔شاید یہی عورت جلسہ سالانہ سے چند ماہ قبل یہاں آئی اس کے پاس