خطبات وقف جدید — Page 8
8 حضرت مصلح موعود دے دیں گے اور ان سے جو آمد ہوگی وہ ہم انہی پر خرچ کریں گے۔ان سے خود کچھ نہیں لیں گے۔اسی طرح ہم بعض واقفین زندگی کو کہیں گے کہ وہاں سکول کھول دیں جو ابتداء میں چاہے پرائمری تک ہی ہوں اور ان میں مدرسہ احمدیہ کا نصاب جو اردو میں ہوگا پڑھانا شروع کر دیں تا کہ اس علاقہ میں دو تین سال کے اندراندر مزید معلمین پیدا ہو جائیں۔اگر ان سکولوں میں علاقہ کے مناسب حال کو ئی فیس بھی لگادی جائے تو وہ ہم نہیں لیں گے۔بلکہ وہ فیس بڑے اور چھوٹے استادوں میں تقسیم کر دی جائے گی ہاں ہمارا دیا ہوا اعطیہ اس میں ملالیا جائے گا تا کہ تمام استادوں کو معقول رقم مل جائے۔ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ بعض واقفین کو اس علاقہ میں جن میں ان کا تقرر کیا جائے روز مرہ کی ضرورت کی چیزوں کی دوکانیں کھلوا دیں اور جہاں دس دس میل تک کوئی حکیم اور طبیب نہ ہو وہاں عطاری کی دوکان کھلوا دیں۔جس میں عرق بادیاں ، عرق گاؤ زبان ، اور خشک دوائیں جیسے بنفشہ، لسوڑیاں اور کالی مرچ وغیرہ رکھوائی جائیں۔ان دوکانوں کو چلانے کے لئے روپیہ ہم اس سکیم سے دیں گے۔اس سکیم کو چلانے کے لئے ان دوستوں سے جو تعاون کے لئے تیار ہوں چھ روپیہ سالانہ چندہ لیا جائے گا جسے پھیلا کر یعنی آٹھ آنہ ماہوار کے حساب سے بھی دیا جا سکتا ہے اس طرح صرف دس ہزار آدمی مل کر اس سکیم کو پانچ ، چھ گنا تک وسیع کر سکتے ہیں اور پھر اس سکیم کو اور بھی پھیلایا جا سکتا ہے، اگر خدا چاہے۔اور ہمیں ایک لاکھ آدمی اس سکیم میں چندہ دینے والا مل جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قریباً ایک ہزار معلم رکھا جا سکتا ہے۔اور جو ابتدائی سکیم میں نے بتائی ہے اس سے سو گنا کام کیا جاسکتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کر سکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائیں تو پشاور سے کراچی تک کے علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں۔اور ہر سال دس دس بیس بیس ہزار اشخاص کی تعلیم و تربیت ہم کر سکیں گے۔بہر حال دوست اس سکیم کو نوٹ کر لیں۔اس کے لئے اپنے نام پیش کریں اور اس سلسلے میں اگر کوئی مفید بات ان کے ذہن میں آئے تو اس سے بھی اطلاع دیں۔میں نے مختصرا اس سکیم کو بیان کر دیا ہے کہ ہم ایسے واقفین کو چالیس سے ساٹھ روپے ماہوار تک دیں گے اگر ہو سکا تو کمپاؤنڈری کی تعلیم دلائیں گے۔علاقہ کے زمینداروں کو تحریک کریں گے کہ وہ آٹھ دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں۔اس زمین میں ہم باغ لگوادیں گے بعض علاقوں میں بڑے بڑے زمیندار احمدی ہیں ، ان کے لئے اس قدر زمین وقف کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔پھر واقف زندگی اس زمین میں اس قدر پیداوار کر سکتا ہے جو اسے کفایت کر سکے۔اب تو ایسے طریق نکل آئے ہیں جن پر عمل کر کے تھوڑی زمین سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔امریکہ میں ایک ایک ایکڑ سے اتنی پیداوار لی جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنی