خطبات وقف جدید — Page 134
134 حضرت خلیل لمسیح الثالث پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے بھی چندہ بھجوا دیا ہے ) لیکن چونکہ وقف جدید کے کام کو پوری طرح چلانے کے لئے یہ نا کافی ہے۔اس لئے امید ہے کہ (جیسا کہ دوست پہلے بھی کیا کرتے ہیں ) اس میں بچوں کے علاوہ دوسرے دوست بھی شامل ہوں گے اور پھر چھ روپے سے زیادہ چندہ دینے والے بھی ہونگے۔حضرت مصلح موعود وقف جدید کا چندہ چھ روپے نہیں بلکہ سات سو یا ہزار دیا کرتے تھے (اس وقت مجھے اچھی طرح یاد نہیں)۔اسی طرح دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالی زیادہ دینے کی توفیق عطا کرتا ہے وہ چھ روپے تک نہیں رکھتے۔یہ زائد دینے والے جو ہیں ان کی رقمیں تین لاکھ کے علاوہ ہونگی۔اس طرح وقف جدید کے لئے تین لاکھ سے زیادہ رقم ہمیں مل جائے گی۔جب ہمیں تین لاکھ سے زیادہ رقمیں وصول ہو جائیں گی تب ہم صحیح طور پر کام کر سکیں گے ورنہ ہمارے سال رواں کا کام بھی ٹھیک طرح نہ ہو سکے گا۔سو اللہ تعالی آپ میں سے ہر ماں اور آپ میں سے ہر باپ کو یہ کہ رہا ہے کہ صرف اپنی فکر ہی نہ کرتا۔قُوا أَنْفُسَكُمْ ہی نہیں بلکہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ تم پر یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس رنگ میں کرو کہ اخروی زندگی میں وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی آگ میں نہ پھینکے جائیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر آپ کے سامنے بیان کر رہا ہے کہ حقیقی معنے میں گھانا پانے والے وہ لوگ ہیں کہ جو قیامت کے روز خود بھی گھانا پائیں گے اور اپنے اہل کو بھی گھاٹا پانے والا بنا دیا ہو گا۔ان کی تربیت صحیح رنگ میں نہ کی ہوگی اور بہت سی آیات بھی ہیں جو اس طرف متوجہ کر رہی ہیں۔تو قرآنی تعلیم کے مطابق ہم میں سے ہر ایک کو اپنی نسل کی تربیت اس رنگ میں کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو نارِ جہنم سے بچائے اور ان پر اس رنگ میں اپنا فضل کرے کہ اس کی نگاہ میں وہ خاسرین کے گروہ میں شامل نہ ہوں۔پس اپنے نفس کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے بڑی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ عائد کی ہے صلى الله کہ اپنے خاندان کو سمجھائیں اس کو اسلام کا شیدائی بنائیں اور اس کے ہر فرد کے دل میں محمد رسول اللہ علی کی محبت پیدا کریں حتی کہ ان کے دل اس جذبہ سے معمور ہو جائیں کہ اسلام کی راہ میں ہر وقت ہم ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں اور دنیا سے نہ کسی شکریہ کی امید رکھیں گے اور نہ واہ واہ کی توقع رکھیں گے اور محض عاجزانہ طور پر اپنے رب کی راہ میں زندگی گزارنے والے ہونگے۔سو تمام احمدی اپنے اس فرض کو پہچانیں۔والدین ہوں یا ولی ، وہ بچوں کو اس طرف متوجہ کریں کہ وہ خدا کے دین کے سپاہی ہیں۔آج اسلام کے مقابلہ کے لئے دشمنوں کی طرف سے تلوار میں میان سے نہیں نکالی جارہی ہیں اس