خطبات وقف جدید — Page 123
123 حضرت خلیفة المسیح الثالث حق میں دعا کی جنھوں نے اپنی زندگیوں کو میری خاطر اور میری راہ میں قربان کر دیا تھا، ہمیں تمہاری اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اپنے اس محبوب کو پہلے سے بھی زیادہ صلوۃ پہنچا تا ہوں (میں جانتے ہوئے صلوٰۃ کا لفظ بول رہا ہوں میں اس وقت اس لفظ کے معنوں اور اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا دیر ہوگئی ہے ) اور تمہیں بھی ان میں سے حصہ دیتا ہوں۔یہ قتل اور فاتحہ بڑے عجیب طریق سے پڑھے جاتے ہیں۔میں ایک دفعہ اپنے ایک غیر احمدی رشتہ دار کے فوت ہونے پر افسوس کے لئے ان کے بچوں کے پاس گیا تو میرے سامنے ایک دوست آئے اور انھوں نے آتے ہی کہا فاتحہ پڑھ لیں۔انھوں نے ہاتھوں کو اٹھایا اور یوں حرکت دی ( حضور نے اس موقع پر ہاتھ اٹھا کر بتایا کہ اس طرح حرکت دی ) اور اتنے عرصہ میں فاتحہ پڑھی گئی شاید اتنی دیر میں لفظ فاتحہ بھی نہ بولا جا سکے۔اس سے اس مُردے کو کیا ثواب پہنچ سکتا ہے یہ صرف گندی عادتیں ہیں جن میں ہماری قوم ملوث ہو چکی ہے اور یہ وہ گندی عادتیں ہیں جن میں ہم نے ملوث نہیں ہونا اور ان سے بچتے رہنا ہے جن چیزوں کی نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ضرورت نہیں تھی ہمیں بھی ان کی ضرورت نہیں اور جنھوں نے ان بد رسوم کو اختیار کرنا ہے وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور ان رسوم کو اختیار کریں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم نے ان گھروں کو چھوڑ کر احمدیت کے قلعہ میں اس لئے داخل ہونا قبول کیا ہے کہ ہمیں یہ چیزیں نہیں بھاتیں۔ہمیں خدا تعالیٰ کی صلوۃ ، خدا تعالیٰ کی برکتیں ، خدا تعالیٰ کی رحمتیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کافی ہیں۔ان کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے ہم ان بد رسوم کو کیوں اختیار کریں۔اس سال بعض واقعات ( گو وہ تھوڑے ہیں ) جماعت میں ہوئے ہیں جن کی وجہ سے میرے لئے ضروری ہے کہ میں آپ میں سے ہر ایک کو تنبیہ کر دوں۔شادی بیٹے کی تھی یا بیٹی کی بعض افراد نے خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف نمائش اور رسوم کو اختیار کیا اور اتنا قرض اٹھا لیا کہ بعد میں انھیں یہ کہنا پڑا کہ ہمارے چندوں میں تخفیف کی جائے۔اگر یہ صورت تھی تو تم نے ان بد رسوم اور نمائش کو اختیار ہی کیوں کیا تھا کہ اس کی وجہ سے آج تم ثواب سے محروم ہو رہے ہو۔اس کے اور بھی بہت سے نقصانات ہیں صرف وقتی طور پر ہی ان کی وجہ سے نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس سے نقصانات کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جس میں سے انسان کو گذرنا پڑتا ہے تمہاری زندگی میں کوئی اسراف نہیں ہونا چاہئے ،تمہاری زندگی میں کوئی رسم نہیں ہونی چاہئے ،خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے علاوہ ہماری عزت کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے اس مقام عزت کے علاوہ کہ جس میں وہ ہمیں کھڑا کرنا چاہتا ہے ہمارے لئے اور کوئی مقام عزت نہیں۔دنیا نے جن مقامات کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ کوئی سروکار ہے۔یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کروتا خدا تعالیٰ کے