خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 122 of 682

خطبات وقف جدید — Page 122

ہے۔122 حضرت خلیل لمسیح الثالث جماعت بد رسوم اور بُری عادتوں کو چھوڑ دے اور بے تکلف زندگی اور اسلامی زندگی گزارنے کی عادی ہو جائے۔ایک وقت جماعت پر ایسا آیا کہ حضور اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے اور جماعت بد رسموں سے اور بدرسموں کے بدنتائج سے محفوظ ہوگئی لیکن اب پھر جماعت کا ایک حصہ اس طرف سے غفلت برت رہا خصوصاً وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیوی مال یا دنیوی وجاہتیں عطا کی ہیں وہ بجائے اس کے اپنے رب کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزارتے لوگوں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر اور اس عزت کے لئے جو حقیقت میں ذلت سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔اس دنیا کی عزت اور بد رسوم کی طرف ایک حد تک مائل ہورہے ہیں۔یہ بد رسوم شادی بیاہ کے موقع پر بھی کی جاتی ہیں اور موت فوت کے موقع پر بھی ہوتی ہیں۔ہمیں کلیہ ان کو چھوڑنا پڑے گا ورنہ رسوم کے وہ طوق جو پہلے ہمارے گلوں میں پڑے ہوئے تھے ، بد رسوم اور بد عادتوں کی وہ بیڑیاں جو پہلے ہمارے پاؤں اور ہاتھوں میں تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالأغْلَلَ الَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ (اعراف:158) وہ ہم اپنے ہاتھوں سے پھر واپس لا کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو ان میں باندھ دیں گے اور ان طوقوں کو اپنے گلوں میں دوبارہ ڈال دیں گے۔پھر ہم ان راہوں پر کیسے دوڑیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی ہم پر کھولی ہیں۔مختصر امیں بڑی تاکید کے ساتھ آپ میں سے ہر ایک کو کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے تعلیمی لحاظ سے قرآن کریم کے اس اعلان کے ذریعہ ان رسوم کو یک قلم ہٹا دیا ہے آپ اپنے گھروں سے اور اپنی زندگیوں سے ان رسوم کو اور بدعات کو یکسر اور یک قلم فوری طور پر ہٹا دیں اور دنیا اور دنیا داروں کی پرواہ نہ کریں اور اپنے رب کی رضا کی پرواہ کریں۔آپ یا تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتی ہیں یا دنیا داروں کی خوشنودی حاصل کر سکتی ہیں۔اب آپ کی مرضی ہے کہ دنیا کی رسوم کی طرف جھکیں اور دنیا کی عارضی خوشی اور دنیا والوں کی عارضی عزت حاصل کر لیں یا یہ کہ آپ دنیا اور دنیا والوں کی پرواہ نہ کریں اور جو آپ کا رب آپ سے چاہتا ہے وہ آپ کریں۔مجھے تو ساری رسوم کے نام بھی نہیں آتے۔بعض رسوم یہ ہیں کہ لوگ قل پڑھتے ہیں، چالیسواں منایا جاتا ہے انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ہم آنحضرت ﷺ اور آپکے صحابہ پر درود بھیجتے ہیں۔ہم میں سے جو شخص آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ پر زیادہ درود بھیجنے والا ہے وہی اللہ تعالی سے زیادہ برکتیں اور صلوٰۃ حاصل کرتا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کر کے یہ چاہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ہماری طرف سے پہنچیں۔جب اللہ تعالیٰ ہماری ان دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے وہ صلوۃ جو ہم صل میں مانگتے ہیں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو پہنچاتا ہے تو وہ ہمیں بھی نظر انداز نہیں کرتا وہ ہمیں کہتا ہے کہ تم نے مجھ سے میرے اس محبوب کے حق میں دعا کی ہے اور ان لوگوں کے الله الله