خطبات وقف جدید — Page 121
121 حضرت خلیفہ امسح الثالث کے پڑھنے اور پڑھانے کو رائج کریں اسی طرح اپنی لجنہ میں بھی اور اپنے محلہ میں بھی یہ کوشش کریں۔آپ کی ذمہ داری ان بچوں کی ہے جو آپ کے گھروں میں ہیں خواہ وہ اطفال ہوں یا نا صرات ہوں کیونکہ جو بچے بڑے ہو جاتے ہیں انکو خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ یا جماعتی نظام سنبھال لیتا ہے اگر وہ ستی کریں تو آپ پر کوئی الزام عائد نہیں ہو گا لیکن اگر آپ ستی کریں تو پھر یقیناً میرے دل میں بھی یہ شکایت پیدا ہوگی کہ ہماری بہنوں نے اپنی اس ذمہ داری کو جو قرآن کریم کے علوم کی اشاعت اور رواج کے سلسلہ میں ان پر عائد ہوتی تھی نہیں نبھایا۔سو فیصدی نہیں نبھایا یا صحیح معنوں میں نہیں نبھایا اور اللہ تعالیٰ بھی آپ سے پوچھے گا کہ دیکھو میں نے تمہارے ہاتھ میں قرآن کریم دیا تھا میں نے تم پر اپنے فضل سے اور اپنی رحمت سے اس کی تفسیر کے دروازے کھولے تھے تم کیوں اس گھر میں داخل نہ ہوئیں۔تم نے کیوں اس گھر میں قدم نہ رکھا۔تم کیوں اس شہر میں داخل نہ ہوئیں۔جس شہر سے بہتر ، جس شہر سے خوبصورت اور جس شہر سے حسین اور کوئی شہر نہ تھا۔اس شہر میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی جو راہیں تھیں وہ راہیں کسی اور شہر میں نہ تھیں۔تم نے ان راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل نہ کیا۔اور ان راستوں پر گامزن نہیں ہوئیں جو اس جگہ تک پہنچا دیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ بڑے پیار سے اپنے بندہ کو کہتا ہے کہ تیرے اعمال میں بڑے رخنے رہ گئے ہیں لیکن میں اپنی رحمت سے تجھے نوازتا ہوں اور تجھے اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہوں اور تجھے اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کرتا ہوں۔آاور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی عجیب موقع بہم پہنچایا ہے آپ اس موقع سے فائدہ اٹھا ئیں اور اپنی نسلوں میں قرآن کریم کا عشق اس طرح بھر دیں کہ دنیا کی کوئی لذت اور کوئی سرور انھیں اپنی طرف متوجہ نہ کرے۔وہ ساری توجہ کے ساتھ قرآنِ کریم کے عاشق ہو جائیں اور وہ ہر چیز اس سے حاصل کرنے والے ہوں اور وہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں تا قیامت تک آپ کے نام زندہ رہیں اور آنے والی نسلیں حیران ہو کر آپ کی تاریخ کو پڑھیں اور کہیں کہ کیسی عورتیں تھیں اس زمانہ کی کہ جنھوں نے دنیا کے تمام لالچوں کے باوجود دنیا کے تمام بداثرات کے باوجود دنیا کو ٹھکرا دیا اور دنیا کی طرف اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نور کو اپنے گرد اس طرح لپیٹا کہ وہ جہاں بھی رہیں اور جہاں بھی گئیں وہ اور ان کا ماحول اس نور سے منور ہا اور جگمگاتا رہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور ہم کو بھی ہمیشہ اس کی تو فیق عطا کرتا رہے۔گو وقت بہت زیادہ ہو گیا ہے اور میں کچھ ضعف بھی محسوس کر رہا ہوں لیکن میں ایک اور بات بھی اس وقت کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت میں اور خصوصاً جماعت کی مستورات میں ایک مہم جاری کی تھی اور اس نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور وہ مہم یہ تھی کہ