خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 120 of 682

خطبات وقف جدید — Page 120

120 حضرت خلیفہ المسح الثالث لوگوں کو جماعت احمدیہ میں داخل کرے گا جو گو بعد میں آئیں گے لیکن آپ سے ان باتوں میں آگے نکل جائیں گے اور آپ کے لئے ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب آپ چاہیں گی کہ قرآنِ کریم پڑھیں اور پڑھائیں لیکن وقت ہاتھ سے گذر چکا ہوگا۔اس لئے آپ اپنی تمام ضرورتوں کو پیچھے چھوڑ کر قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے گھروں میں قرآن کریم کا چرچا کریں اور ہر اس بچہ کو جو پڑھنے لکھنے کی عمر کا ہو چکا ہو قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیں قرآنِ کریم ناظرہ پڑھنے میں بھی بڑی برکت ہے گو یہ کوئی تعویذ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کی تاثیر اس کے اندر پیدا کر دی ہے کہ جو کوئی خلوص نیت سے اسے پڑھتا ہے اسے ترجمہ نہ بھی آتا ہو تب بھی وہ ایک حد تک اس برکت کو حاصل کرتا ہے اور اس برکت کا ظہور اس صورت میں بھی ہوتا ہے کہ اسے ترجمہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے، پھر وہ مزید برکت حاصل کرتا ہے تو اس کا ظہور اس رنگ میں بھی ہوتا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تفسیر پڑھنے کا شوق اپنے دل میں پاتا ہے اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی صورت میں اور تفسیر کبیر کی صورت میں اس قدر اعلیٰ اور اس قدر اچھی اور دلوں کو موہ لینے والی تفسیر دی ہے کہ آج سے پہلے دنیائے اسلام کو قرآن کریم کی ایسی تفسیر عطا نہیں کی گئی تھی آپ میں سے جو بہنیں عربی جانتی ہیں اگر کبھی ان کو موقع ملے تو وہ کسی پرانی مستند بڑی مضبوط اور بڑے پا یہ کی تفسیر کو لے لیں اور اس کو پڑھیں اور ساتھ ساتھ اس کا اس تفسیر کے ساتھ موازنہ کرتی چلی جائیں جو ان آیات کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے یا جو تفسیر ان آیات کی تفسیر کبیر میں پائی جاتی ہے تو وہ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گی کہ بغیر آپ کی کسی خوبی کے اور بغیر کسی قربانی کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس نعمت سے نوازا ہے کہ اس وقت تک دنیا کی بہترین تفسیر جوممکن ہو سکتی تھی اس کے دروازے آپ کے لئے کھولے اور وہ دروازے کھلے ہیں اور بڑی بد بخت ہے وہ بہن اور بڑا بد بخت ہے وہ بھائی جو ان کھلے دروازوں کے اندر داخل ہونے کی خواہش نہیں رکھتا اور عملاً ان دروازوں کے اندر داخل نہیں ہو جاتا کیونکہ اس کے بغیر الخَيْرُ كُلُّهُ فِي القُرآن ہر قسم کی بھلائی اور نیکی جو قرآن کریم سے حاصل کی جاسکتی ہے ہم حاصل نہیں کر سکتے۔بس قرآنِ کریم کی تعلیم کی جو مہم میں نے جاری کی ہے اس کے سلسلہ میں میں آپ بہنوں کو ملک کے دور دراز علاقوں سے یہاں تشریف لائی ہیں اور سفر کی صعوبت اٹھا کر محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ( دنیا کی خواہش ، دنیا کا کوئی رتبہ یا وجاہت آپ کا مقصود نہیں ) یہاں آئی ہیں قرآنِ کریم کا واسطہ دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ آپ جب گھروں کو واپس جائیں تو قرآن کریم کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دیں اور اپنے گھروں میں قرآن کریم