خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 113 of 682

خطبات وقف جدید — Page 113

113 حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کام کو پورا کر دیں گے جو اس وقت حضور کو نظر آ رہا تھا اور حضور چاہتے تھے کہ اسے پورا کر دیں۔بہر حال آپ نے شروع میں دس ہزار روپیہ کی جماعت سے اپیل کی لیکن بعد میں جلد ہی حضور بیمار ہو گئے اور اس وجہ سے حضور اس سکیم کی ذاتی طور سے نگرانی نہ فرما سکے لیکن یہ کام خود بخود جاری رہا اور اب اس کا سال رواں کا بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کے قریب ہے اور اگر حضور بیمار نہ ہوتے اور اس سکیم کی طرف حضور ذاتی توجہ دیتے رہتے تو مجھے یقین ہے کہ سات آٹھ سال کے اندر ہی یہ تحریک اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی اور جس طرح حضور نے تحریک جدید کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بعد اسے تحریک جدید انجمن احمدیہ کے سپرد کیا اسی طرح اس تحریک کو بھی حضور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بعد وقف جدید انجمن احمدیہ کے سپر د کرتے اور جیسا کہ تحریک جدید کے سلسلہ میں ہوا آپ بطور خلیفہ عام نگرانی اس کی کرتے رہتے ( عام نگرانی خلیفہ کے فرائض میں سے ہے اور حضور تفاصیل میں گئے بغیر اس کی نگرانی فرماتے رہے لیکن جیسا کہ تحریک جدید کے شروع میں یہ دستور تھا کہ حضور اس کے متعلق چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی خود ہی فرمایا کرتے تھے۔وقف جدید کے سلسلہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے حضور ایسانہ کر سکے ) لیکن چونکہ وقف جدید شروع میں ہی حضور کی ذاتی نگرانی اور توجہ سے محروم ہو گئی اس لئے اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ جو عظیم کام اس تحریک نے کرنا تھا وہ پورا نہیں ہو سکا۔اور اب اللہ تعالیٰ کی منشاء اور اس کے اشارہ سے میں نے وقف عارضی کی تحریک کو جاری کیا اور سینکڑوں مقامات پر واقفین عارضی کے وفود پہنچے اور انھوں نے مرکز میں رپورٹیں بھجوا ئیں تو پتہ چلا کہ وقف جدید کی تحریک کس غرض سے جاری کی گئی تھی اور یہ کہ نگرانی میں غفلت کے نتیجہ میں جماعت کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔کیونکہ سینکڑوں جماعتیں اس وقت ایسی ہیں کہ جہاں تربیت کے لحاظ سے بہت کمزوری اور کمی اور نقص پایا جاتا ہے اور ان کی طرف فوری توجہ دینا ضروری ہے اور تربیت زیادہ تر علاوہ بڑوں کے ) بچوں کو ہی دی جاتی ہے۔بڑے جو ہیں وہ تو مختلف جلسوں میں اور ذیلی تنظیموں کے کاموں میں شامل ہو کر ایک حد تک تربیت حاصل کرتے رہتے ہیں اور ان خطوط پر تربیت حاصل کرتے رہتے ہیں جن خطوط پر جماعت احمد یہ اپنی نسلوں کی تربیت کرنا چاہتی ہے لیکن وقف عارضی کے وفود کی رپورٹوں کے نتیجہ میں بعض ایسی جماعتیں بھی میرے علم میں آئیں جہاں ایک شخص بھی ایسا موجود نہیں جو آگے کھڑا ہو کر نماز با جماعت پڑھا سکے۔ایک جماعت کے متعلق وفد نے بتایا کہ پہلے وہاں پڑھے لکھے لوگ بھی موجود تھے ( بعض مقامات پر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام میں سے بعض بزرگ موجود تھے ) جو تر بیت کی طرف کافی توجہ دیتے رہے لیکن بعد میں یوں ہوا کہ جو صحابہ تھے وہ تو وفات پاگئے اور جو پڑھے لکھے لوگ تھے وہ اپنی نوکریوں کے سلسلہ میں گاؤں سے باہر چلے گئے اور اب اس جماعت میں ایک بھی ایسا آدمی موجود نہیں جو