خطبات وقف جدید — Page 68
68 حضرت مصلح موعود صلى الله گے کہ میں عیسائی ہو کر ایسی بات کر رہا ہوں لیکن میں سچی بات کا انکار کیسے کر سکتا ہوں۔میں جب اسے رخصت کر کے اپنے کمرہ کی طرف آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے پیچھے پیچھے کوئی آ رہا ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو ڈسمنڈ شا آ رہا تھا وہ کہنے لگا میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا تھا، میں نے چاہا کہ آپ سے پوچھ لوں، میں نے کہا پوچھو کیا سوال ہے؟ وہ کہنے لگا کہ جب میں یہ تقریر کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ یہ سب سے بڑے نبی تھے تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری زبان سے خدا بول رہا ہے مگر یہ عیسائی لوگ پھر بھی نہیں مانتے۔میں نے کہاڈ سمنڈ شا جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ خدا آپ کے اندر بول رہا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ شاید دوسرے لوگ بھی اس آواز کو سن رہے ہیں حالانکہ دوسرے لوگ صرف تمہاری آواز سنتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی آواز نہیں سنتے اس لئے وہ تمہاری بات نہیں مانتے۔وہ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔جب یہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی آواز سنے لگ جائیں گے اور خدا تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی بولا تو ان پر بھی اثر ہو جائے گا۔میں نے کہا ابھی ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب تم بولتے ہو تو یہ لوگ صرف تمہاری آواز سنتے ہیں۔تم انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ جب تم بولا کرو تو خدا صرف تمہاری زبان سے نہ بولے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی بولے اور جس دن وہ لوگوں کے دلوں میں بولنے لگے گا، لمبی چوڑی تقریروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔سارا یورپ تمہاری بات ماننے لگ جائے گا۔(خطبہ جمعہ الفضل 20 مئی 1958، صفحه 1-7)