خطبات وقف جدید — Page 543
543 حضرت خلیفہ المسح الرابع غلاموں کے آزاد کرنے کیلئے اور محتاج اور قرضداروں اور آفت زدہ لوگوں کی مدد کیلئے بھی اور دوسری راہوں میں جو محض خدا کے لئے ہوں وہ مال خرچ ہوگا تم حقیقی نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ بنی نوع کی ہمدردی میں وہ مال خرچ نہ کرو جو تمہارا پیارا مال ہے۔غریبوں کا حق ادا کرو۔مسکینوں کو دو۔مسافروں کی خدمت کرو۔اور فضولیوں سے اپنے تئیں بچاؤ یعنی بیا ہوں شادیوں میں اور طرح طرح کی عیاشی کی جگہوں میں اور لڑکا پیدا ہونے کی رسوم میں جو اسراف سے مال خرچ کیا جاتا ہے اس الله سے اپنے تئیں بچاؤ ( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 357 ،358) پھر سورۃ المنافقون کی آیت نمبر 11 میں ہے: وَأَنْفِقُوا مِنْ مَّا رَزَقْنَكُمْ مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَّاتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ لا فَأَصَّدَّقَ وَ أَكُن مِّنَ الصَّلِحِينَ اور خرچ کرواس میں سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے پیشتر اسکے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہے اے میرے رب ! کاش تو نے مجھے تھوڑی سی مدت تک مہلت دی ہوتی تو میں ضرور صدقات دیتا اور نیکوکاروں میں سے ہو جاتا۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یقینا اللہ تعالٰی مومن کو اس کی کسی نیکی کا اجر کم کر کے نہیں دیتا۔اسے اس نیکی کے بدلے میں دنیا میں بھی رزق ملتا ہے اور اس کے علاوہ آخرت میں بھی اس کی جزا اسے ملے گی لیکن کا فر کو اس کے اچھے کاموں کے بدلہ میں بس اس دنیا میں ہی کچھ کھلایا پلایا جاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کی اسے نیک جزا دی جائے۔(مسند احمد بن حنبل مند انس بن مالک حدیث نمبر 11855) بخاری کتاب الزکوۃ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو اشخاص کی طرح ہے جنہوں نے لوہے کے ایسے زرہ نما چیتے پہنے ہوں جو صرف چھاتی سے گلے تک ہوں۔خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا جبہ کھلتا جاتا ہے یا یہ فرمایا کہ وہ جبہ اسکی جلد پر پھیلتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کی پوروں کو بھی ڈھانپ لیتا ہے اور گویا اسکو اپنے اندر بالکل غائب کر لیتا ہے۔اور بخیل جب بھی ارادہ کرتا ہے کہ خرچ سے ہاتھ روکے تو اس جیسے کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر اس کے جسم کے ساتھ اور تنگ ہو جاتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ وہ جبہ کھلا ہو جائے مگر کھلا نہیں ہوتا۔( بخاری كتاب الزكوة باب مثل البخيل والمتصدق) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔رزق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ابتلا کے طور پر، دوسرے اصطفا کے طور پر۔رزق