خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 541 of 682

خطبات وقف جدید — Page 541

541 حضرت خلیفة المسیح الرابع وجہ سے ناجائز تعلقات پر خرچ کرتے ہیں۔ابھی تجارت شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی ، اس امید پر کہ تجارت کا مال بہت آئے گا وہ اپنے خرچ بڑھا دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو ہمیشہ بے برکتی ہوتی ہے۔تو رزق کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے وہ دلوں کو جانتا ہے اسلئے اس کے مطابق ان سے سلوک کرتا ہے۔اس لئے یہ خیال غلط ہے کہ کوئی کہہ دے کہ نیک اولاد تھی پھر کیوں اس کو ایسا ہوا۔اس کے دل کے اوپر اللہ تعالیٰ کی نظر ہے وہ اگر دکھاوے کے لیے بات کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں کبھی برکت نہیں ڈالے گا۔حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے ابن آدم ! اگر تو مال خرچ کرے گا تو یہ تیرے لئے بہتر ہوگا اور اگر تو اسے روکے گا تو یہ تیرے لئے بہت بُرا ہوگا۔ہاں ایسی حالت میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں کہ جب تو بمشکل گزارہ کر رہا ہو اور تو اس سے شروع کر جس کا نان و نفقہ تیرے ذمہ ہے۔اور (یا درکھ ) اوپر کا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔(مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار ) حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صدقہ ( یعنی اللہ کی راہ میں مال خرچ ) کیا کرو کیونکہ تم پر وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک شخص اپنا صدقہ ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا مال ) لئے پھرے گا مگر جس کو وہ دیا جاتا ہے وہ کہے گا کہ اگر تو اسے کل لاتا تو میں قبول کر لیتا مگر میں آج نہیں کروں گا۔فرمایا:۔(سنن نسائی - كتاب الزكواة باب التحريض على الصدقة ) صلى الله بخاری کتاب التمنی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف دو آدمی ایسے ہیں جن کے بارہ میں حسد ( یعنی رشک) جائز ہے۔ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہو۔(اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے ) کاش مجھے بھی ویسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی ہے تو میں ویسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔اور دوسرا شخص وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو جس کو وہ وہاں خرچ کرتا ہے جہاں خرچ کرنے کا حق ہے (اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے ) کا ش مجھے بھی ویسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔(بخاری ـ كتاب التمني باب تمنى القرآن والعلم) صلى الله حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورت اپنے گھر کے خرچ میں سے کچھ خرچ کرتی ہے، بشرطیکہ اس سے فساد پیدا نہ ہو، تو اس کو اس کے خرچ کرنے