خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 506 of 682

خطبات وقف جدید — Page 506

506 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اب پہلے دس اضلاع کا نام بھی سن لیں تا کہ آپ کی دعاؤں میں وہ شامل رہیں پھر میں اس خطبے کو دعا کے ساتھ ختم کروں گا۔اسلام آباد سارے اضلاع میں نمبر ایک پر ہے۔راولپنڈی تمام پاکستان کے اضلاع میں نمبر دو ہے۔یہ مجھےسمجھ نہیں آتی کہ باقی جو بہت سے اہم تربیتی اور دوسرے کام ہیں ان میں ان دونوں ضلعوں کو اتنی توفیق نہیں ملی۔وقف جدید میں کیوں ، کیسے مل گئی۔لیکن اللہ کا فضل ہے جس کو بھی نصیب ہو جائے۔اللہ تعالیٰ یہ مبارک کرے اور اس کے نتیجے میں دوسرے ترقی کے میدانوں میں بھی ان کو آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا ہو۔اب سیالکوٹ ضلع بھی عام طور پر پیچھے رہنے والے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے عظیم جھنڈے جو سیالکوٹ کی جماعت نے مسیح موعود کے زمانے میں اٹھائے ہوئے تھے ایک ایک کر کے اپنے گھروں میں رکھ دئے گئے اور آخر یہ ضلع عملاً دشمنوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔بڑی بڑی احمدیت کی مخالفت کی روئیں اس ضلع سے اٹھی ہیں جن کا پہلے زمانوں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔تو اب میں اس ضلع کے پیچھے تو پڑا ہوا ہوں دیکھیں کب یہ بیدار ہو کر ہر نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے لیکن اتنا ضرور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وقف جدید میں اس ضلع کو تیسری پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔فیصل آباد چوتھے نمبر پر ہے۔پانچویں پر گوجرانوالہ ہے اور شیخو پورہ کی باری چھٹے نمبر پر آتی ہے۔شیخو پورہ غالباً چوہدری انور حسین صاحب کو یاد کر رہا ہے۔ان کے بیٹے سن رہے ہو گے تو یا درکھیں کہ اپنے بزرگ باپ کے مقام کو یا درکھیں اور جن جن نیکی کے میدانوں میں انہوں نے قدم آگے بڑھایا تھا آپ بھی آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔عمر کوٹ ساتویں نمبر پر ہے۔یہ چھوٹا سا سندھ کا ضلع ہے لیکن حیرت ہے کہ کیسے ساتویں نمبر پر آ گیا مگر آ گیا ہے۔گجرات آٹھویں نمبر پر ہے اور گجرات کا آٹھویں نمبر پر ہونا بھی غالبا اس وجہ سے ہے کہ وہ سب دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور وہ اپنے پیچھے رہنے والوں کا خیال رکھتے ہیں۔سارے گجراتی دنیا بھر سے اپنے خاندانوں کی مالی مدد کرتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ان کو پھر یہ خدمت دین کے سلسلے میں استعمال کرنے کی توفیق ملتی ہے۔کوئٹہ نویں نمبر پر ہے اور سرگودہا دسویں نمبر پر اور اس کے ساتھ ہی جمعہ کا وقت ختم ہوتا ہے۔الفضل انٹر نیشنل 20 فروری 1998ء)