خطبات وقف جدید — Page 493
493 حضرت خلیفة المسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 2 جنوری 1998 ء بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ يُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُولِجُ النَّهَارَ فِى اليْلِ ، وَ هُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوالَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ ط پھر فرمایا: (سورة الحديد: 6 تا 8) آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وقف جدید کے سال نو کا آغاز ہو گا اور پرانی روایات کے مطابق جنوری کے پہلے جمعہ میں ہمیشہ تو نہیں مگر اکثر وقف جدید کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس اعلان سے پہلے میں ایک دوامور ویسے ضمناً عرض کر رہا ہوں کہ یہاں جمعہ پہ آتے ہوئے رستے میں صَلِّ عَلَى نَبِيِّنَا صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ كاور MTA پر ہورہا تھا اور اس پر میرا دل حمد سے بھر گیا کہ ظالموں نے کوشش کی تھی کہ جماعت احمدیہ کو صَلِّ عَلی کے ورد سے ربوہ میں محروم کر دیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو قید کیا اور پکڑا گیا کہ تم صلّ علی کا ورد نہ کرو آج ساری دنیا صَل علی کے ورد سے گونج رہی ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے رستے میں حائل ہو سکے پس یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ جسے ہمیں خصوصیت سے یا درکھنا چاہئے کہ ان کی سب روکیں خدا نے خاک کی طرح اڑا دی ہیں آسمان سے جو فضل نازل ہو رہے ہیں ان کی راہ میں ان کی طرف سے کوئی چھتریاں کوئی روکیں حائل نہیں ہو سکتیں۔وہ فضل نازل ہوتے چلے جائیں گے اور یہ حسرتوں سے دیکھتے چلے جائیں گے۔اگر یہ حقیقت بھی ان کو سمجھ نہیں آرہی تو پھر کیا حقیقت سمجھ آئے گی۔اپنی آنکھوں کے سامنے آسمان سے فضلوں کی بارش ہوتی دیکھ رہے ہیں اور شور مچارہے ہیں کہ ہم مباہلہ جیت گئے۔خاک جیتے ہو تم۔وہ قصے میں بعد میں بتاؤں گا کہ کیا جیتے ہیں اور کیسے جیتے ہیں مگر یہاں ضمنا صرف آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اس وعدے میں بھی خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کریں اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔دوسری چیز جو ضمناً کہنی چاہتا ہوں وہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات سے متعلق ملنے والے تعزیت کے پیغام خطوط اور لوگوں کا یہاں تشریف لانا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جتنے بھی خطوط آتے ہیں