خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 438 of 682

خطبات وقف جدید — Page 438

438 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خزانہ تو دنیا میں بھی نازل نہیں ہوا تھا اور یہی وہ خزانہ تھا جس کو بانٹنے کے لئے امام مہدی نے تشریف لانا تھا اور آج امام مہدی کے غلاموں کو یہ توفیق مل رہی ہے کہ انشاء اللہ یہ خزانداب گھر گھر بانٹا جائے گا۔دوسرا اہم پروگرام زبانیں سکھانے کا ہے۔جب وقف نو کی تحریک کی گئی تو اس وقت سے میرے دل میں یہ خلش تھی کہ ہم ہزاروں بچوں کو قبول تو کر بیٹھے ہیں ان کی تربیت کیسے کریں گے، ان کو زبانیں سکھائیں گے، ان کی روزمرہ کی ابتدائی تربیت ان کی اپنی زبانوں میں کیسے کریں گے۔ہمارے پاس تو اتنے معلم نہیں ہیں کہ جہاں جہاں بچے ہیں وہاں معلم پہنچا دئے جائیں۔ہمارے پاس اتنے زبان دان نہیں ہیں کہ جہاں جہاں زبان کے خواہشمند ہیں ان کو اہلِ زبان سے انکی اپنی زبان سکھائی جائے۔اگر اربوں روپیہ بھی ہم خرچ کرتے تو یہ ناممکن تھا۔جامعہ احمد یہ ربوہ میں ہی پورے استاد مہیا نہیں کہ جو عرب ہوں اور عربی کی تعلیم دے رہے ہوں ، انگریز ہوں جو انگریزی کی تعلیم دے رہے ہوں، فرانسیسی ہوں جو فرانسیسی کی تعلیم دے رہے ہوں ،غرضیکہ زبانیں سکھانے کا کام بہت ہی مشکل تھا اور سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے کریں گے اور اب تک خدا کے فضل سے پندرہ ہزار سے زائد واقف نو بچے جماعت کو عطا ہو چکے ہیں۔جب یہ پروگرام بنا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک ایسا منصوبہ ڈال دیا جس کے ذریعے ہم دنیا کی بڑی زبانیں ، اہلِ زبان کی زبان میں تمام دنیا کے احمدی بچوں کو اور بڑوں کو بھی ٹیلی ویژن کے ذریعے سکھا رہے ہونگے اور روزانہ یہ پروگرام جاری ہونگے ، انشاء اللہ تعالیٰ۔اس سلسلہ میں جو دلچسپ بات ہے وہ یہ ہے کہ ٹیلی ویژن کا جو پروگرام دکھایا جارہا ہوگا وہ بغیر کسی ایک زبان کے ہوگا اور اس کے ساتھ مختلف چینل میں مختلف زبانیں سکھائی جا رہی ہونگی۔فی الحال وسیع تر ٹیلی ویژن کا جو انتظام ہے یعنی بارہ گھنٹے روزانہ والا اس میں ہمیں صرف دو چینل ملے ہیں یعنی بیک وقت دوز با نہیں اس پر دکھائی جاسکیں گی جبکہ یورپ کے ساڑھے تین گھنٹے ٹیلی ویژن پر ہم بیک وقت آٹھ زبانیں سکھا سکیں گے۔لطف کی بات یہ ہے کہ کسی زبان کو سکھانے کے لئے کسی اور زبان کی ضرورت نہیں ہوگی۔اگر کر یول Creole سکھانی ہے تو نہ وہ اردو میں سکھائی جائے گی نہ جرمن میں، نہ انگریزی میں، نہ فرنچ میں نہ کسی اور زبان میں سکھائی جائے گی کریول Creole کو کریول Creole میں ہی سکھایا جائے گا اور اس طرح بچے تعلیم پاتے ہیں ، بچوں کے لئے کونسا آپ کوئی دوسری زبان کا سہارا ڈھونڈتے ہیں کہ بچے کو پہلے اردو میں انگریزی سکھائی جائے یا انگریزی میں اردو پڑھائی جائے۔ماں باپ کی زبان بچے ان سے سیکھتے ہیں اور بغیر کسی دوسری زبان کے سہارے سے سیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اہلِ زبان بنتے ہیں۔جب دوسری زبانوں کا سہارا نہ لیا جائے تو لفظ مضمونوں میں ڈھلتے ڈھلتے دماغ پر اتنا گہرا نقش ہو جاتے ہیں کہ اس مضمون کا کوئی بھی سایہ دکھائی دے تو