خطبات وقف جدید — Page 350
350 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ثابت ہوئیں اور ساری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے مل کر چین میں جو انقلاب بر پا کرنے کے لئے کوشش کی تھی اس میں وہ کلیہ نا کام رہے۔وہاں انقلابات ہوئے جہاں محض خدا کی تقدیر کو دخل تھا جہاں انسانی کوششوں کا کوئی بھی ہاتھ نہیں تھا اس لئے ابھی سے دانشور یہ لکھنے لگے ہیں اور مختلف مواقع پر یہ بیان دینے لگے ہیں کہ یہ سال جو 1989ء کا سال ہے یہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا بلند اور ممتاز سال بن کر ابھرا ہے کہ اسے قیامت تک مورخ بھلا نہیں سکے گا۔ایک غیر معمولی شان ہے اس سال میں اور آئندہ کیلئے بنیادیں ڈالنے والا سال ہے۔پس اس کی بلندی محض اپنی ذات کی بلندی نہیں بلکہ آئندہ دنیا کی سر بلندی کے لئے اس سال میں بنیادیں قائم کی گئیں ہیں اور یہ وہی سال ہے جس کو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا عالمی جشن تشکر قرار دیا۔اب اس میں ہماری اور آپ کی انسانوں کی کوششوں کا ظاہر ہے کوئی ادنی سا بھی دخل نہیں۔اللہ تقدیر بنا رہاہے اور تم دنیا کو جور کردیا گیا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کے سال کو بھی نہ بھلا سکے اور ہمیشہ اس سال کو سنہری حروف سے لکھتی چلی جائے۔پس خدا کی بہت سی تقدیر میں مخفی طور پر ایسے کام کر رہی ہوتی ہیں کہ سطح پر ان کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔اچانک جس طرح سمندروں میں جزیرے ابھر آتے ہیں اس طرح جب وہ خدا کی تقدیر آخری صورت میں اُبھرتی ہے تو دنیا حیرت سے اس کو دیکھنے لگتی ہے پس ان دونوں باتوں میں حکمت ہے۔یہ دونوں باتیں اتفاقی نہیں ہیں 23 مارچ کے دن کو پاکستان کی خوشیوں کا دن قرار دے دینا اور صد سالہ جشنِ تشکر کے دن کو سارے عالم کی خوشیوں کا دن قرار دے دینا اور اس سال میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کرنا اور حیرت انگیز تبدیلیوں کی بنیاد میں قائم کرنا یہ ایسی باتیں تو نہیں ہیں جو اتفاقاً اکٹھی ہو گئی ہیں۔ان کے اندر خدا کی تقدیر کارفرما دکھائی دیتی ہے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس کثرت کے ساتھ فضل کبھی نازل نہیں ہوئے جتنے اس سال نازل ہوئے ہیں اور اس میں کسی حد تک تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے جشنِ تشکر کی تیاریاں کی تھیں ان کے نتیجہ میں کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی تھا لیکن خدا کے جن فضلوں کا میں پہلے ذکر کرتا چلا آیا ہوں ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا ہماری تیاری سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا خدا کی طرف سے آسمان سے فضل نازل ہوئے ہیں اور ان کو ہم نے نازل ہوتے دیکھا ہے اور ہر پہلو سے اس سال میں جماعت کو غیر معمولی عظمت عطا ہوئی، غیر معمولی تقویت نصیب ہوئی اور ہمارے دشمنوں کو غیر معمولی ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔یہ سب باتیں اتفاقی تو نہیں ہو سکتیں۔بہت ہی جاہل ہو گا جو اس ساری تصویر کو اکٹھی دیکھے اور پھر کہے کہ اتفاقاًیہ نقوش بنتے چلے گئے یہاں تک کہ ایک معنی خیز تصویر ابھر آئی۔