خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 291 of 682

خطبات وقف جدید — Page 291

291 حضرت خلیفة المسیح الرابع امریکہ کی طرف سے گندم کی مدد کے طور پر ملتی تھی خشک دودھ ملتا تھا اور اسی طرح کئی قسم کی سہولتیں تھیں مثلاً دوائیاں مفت تقسیم کرنے کیلئے ملتی تھی۔ان کے گشتی شفا خانے رائج تھے۔ان حالات میں وقف جدید نے وہاں کام کا آغاز کیا۔یعنی ہر سمت سے بظاہر یوں لگتا تھا کہ سامنے ٹھوس دیوار حائل ہے وہ راستہ روکے کھڑی ہے کہ آگے نہیں بڑھنا لیکن اللہ تعالی نے حیرت انگیز فضل فرمایا جس کے نتیجہ میں ساری دیوار میں ٹوٹ گئیں۔اس نے ہمیں اس قوم میں نفوذ کی غیر معمولی طور پرنتی را ہیں عطا کیں اور رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں اسلام پھیلتا چلا گیا۔جب میں وقف جدید میں تھا تو اسوقت آخری اعداد و شمار کے مطابق 143 دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام قائم ہو چکا تھا اور عیسائیوں کے کلیہ وہاں سے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔شروع ہی میں جب معلمین وقف جدید کی طرف سے یہ تقاضے ہوئے کہ ہمیں بھی ان لوگوں کی مدد کے لئے روپیہ دیا جائے ورنہ یہ لوگ عیسائیوں کی جھولی میں چلے جائیں گے تو میں نے بہت ہی اصرار کے ساتھ انکو اس بات سے روکے رکھا میں نے کہا کہ اگر دولت تقسیم کرنے کا مقابلہ ہوا تو ہم عیسائیوں کے مقابل پر ہزارواں لاکھواں حصہ بھی خرچ نہیں کر سکتے دوسرے یہ کیسے ممکن ہے کہ جس قوم کو ہم نئی زندگی عطا کرنا چاہتے ہیں اس کے اچھے اخلاق کو گناہ میں تبدیل کر دیں۔ان میں خود داری ہے۔ان میں لین دین کے اچھے معاملات کی عادت ہے محنت کی عادت پائی جاتی ہے۔اگر ہم ان کو بھکاری بنا دیں تو اس اسلام کا ان کو کیا فائدہ؟ ہم تو پسماندہ اقوام کو اٹھا کر انسانی سطح پر بلند کرنا چاہتے ہیں جس پہلو سے بھی دیکھا جائے مالی امداد کی تجویز غلط ہے۔چنانچہ وقف جدید نے شروع سے ہی یہ مصمم ارادہ کیا ہوا تھا اور اس پر آخری وقت تک عمل رہا اور اب بھی اسی پر عمل ہے کہ ان کو بھیک منگا نہیں بنانا ہاں بعض دوسری صورتوں میں جب ممکن ہو ان کی مدد اس رنگ میں کی جائے کہ انکو سود کی لعنت سے بچایا جائے۔چنانچہ ہم نے فصلوں کی کاشت کے وقت انکو قرضے دینے شروع کئے خصوصاً ان سالوں میں جبکہ بہت زیادہ حالات خراب ہوتے تھے ہم نے انہیں قرضے دیئے۔مالی اعتبار سے وقف جدید کی بہت معمولی حیثیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کاموں میں برکت ڈال دیتا ہے۔ہم نے پیج پہلے سے لے کر رکھنا شروع کر دیا۔وقت آنے پر ہم ان کو گندم یا با جرے کا بیج اصل قیمت پر دیتے تھے نہ صرف یہ کہ انہیں سود نہیں دینا پڑتا تھا بلکہ منافع بھی ہمارا کوئی نہیں ہوتا تھا۔بیج مہیا کرتے وقت کوئی تحریر بھی نہیں لی جاتی تھی۔اگر وہ لے کر بھا گنا چاہتے تو سب کچھ لیکر بھاگ جاتے۔لیکن خدا کے فضل کے ساتھ ایک آنہ بھی ضائع نہیں ہوا۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ ان کا قومی کردار کتنا بلند ہے۔پاکستان کے کسی اور علاقے میں کتنی لکھت پڑھت کریں، روپے کی حفاظت کا کتنا انتظام کر لیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سارا روپیہ واپس آجائے اور اگر بے احتیاطی