خطبات وقف جدید — Page 251
251 حضرت خلیفہ امسیح الرابع پہلے اس توجہ کو مسلمانوں سے ہٹا کر اپنی طرف منتقل فرمایا اور ایک شعر کی صورت میں یہ اعلان شروع کر دیا کہ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ اے کفار ! تم کدھر بھاگ رہے ہو۔اسلام کی جان تو میں ہوں۔اگر نبی کی دشمنی تمہیں ان لوگوں کو ہلاک کرنے پر آمادہ کر رہی ہے تو ادھر آؤ۔یہ نبی یہاں ہے۔اور اگر کسی کو عبد المطلب کے خاندان سے دشمنی ہے یا کوئی اور وجہ ہے تو عبدالمطلب کی اولاد کا سر براہ یا عبدالمطلب کی اولاد کی جان یہاں موجود ہے ان کو چھوڑو اور میری طرف آؤ۔ایسے خطرناک وقت میں دشمن کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا سپہ سالار آپ نے دنیا کے پردے پر کہیں اور نہیں دیکھا ہو گا۔یہ اعلان فرمانے کے بعد آپ نے صحابہ کو بلایا اور بلانے کا انداز یہ تھا کہ اعلان کروایا اسے انصار ! خدا کا رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے اور اے مہاجرین ! خدا کا رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔روایتوں میں آتا ہے کہ اس وقت حالت یہ تھی کہ پاؤں اس شدت سے اکھڑ چکے تھے کہ کوشش کے باوجود بھی سواریاں نہیں مڑتی تھیں۔جن جن کے کانوں میں یہ آواز پہنچی اگر وہ پیدل تھے تو وہ اسی طرح پلٹ آئے اور جو سوار تھے انکے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے پوری قوت کے ساتھ سواریوں کو موڑنے کی کوشش کی ان سواریوں کی گردنیں ان کی چھاتیوں کے ساتھ لگ گئیں لیکن وہ مڑنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔تب انہوں نے تلواروں سے اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹیں اور لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَبَّیک کہتے ہوئے پا پیادہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے کیوں گردنیں کاٹیں؟ اپنی گردنیں بچانے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے سواریوں کی گردنیں کاٹیں کہ خودان کے سرتن سے جدا کئے جائیں۔میں نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ وہ قوم تھی جو حضرت محمد مصطفے ﷺ کو عطاء ہوئی اور ہم بھی تو اسی آقا کے غلام ہیں اور اسی کے تربیت یافتہ ہیں۔اسلئے تم کتنی بدظنی سے کام لیتے ہو، یہ کہتے ہو کہ جب میں احمدی بچیوں کو آنحضور ﷺ کی عزت اور ناموس کے نام پر بلاؤں گا تو وہ نہیں آئیں گی۔مجھے یقین ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا اور یہ بات جو تم کہتے ہو، ناممکن ہے۔تم دیکھو گے کہ وہ ساری کی ساری انشاء اللہ ادھر پلیٹیں گی اور خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹیوں کو ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا مجھے ایسے ایسے دردناک خط ملے کہ میں وہ پڑھتا تھا اور میرا دل حمد سے بھر جاتا تھا۔اور مومن کی حمد خود بخود دعا میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ان بیٹیوں کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا ئیں نکلتی تھیں کہ خدا تعالیٰ نے فضل فرمایا اور انہوں نے اپنے عہد کو سچا ثابت کر دکھایا۔پس یہ وہ جماعت ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوئی ہے کوئی ہے دنیا میں طاقت جو خدا کی ایسی جماعت کو