خطبات وقف جدید — Page 164
164 حضرت خلیفة المسیح الثالث ہے مثلاً ایک فرق تو یہی ہے کہ بعض سہ ماہیوں میں کالج اور سکول کے طلبا وقف عارضی میں باہر جاسکتے ہیں کیونکہ انھیں چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن بعض سہ ماہیاں ایسی آتی ہیں جن میں کالج اور سکول کے طلباء باہر نہیں جا سکتے۔پھر بعض سہ ماہیوں میں زمیندار لوگ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کے لئے باہر نکل سکتے ہیں اور بعض ایسے زمانے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے دنیوی کاموں میں لگے رہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی دنیاوی کام بھی خدا تعالیٰ ہی کے لئے کرتا ہے وہ دنیوی کاموں میں خدا کی راہ میں چندہ دینے کی نیت سے یا اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے خیال سے محنت کر رہے ہوتے ہیں وہ انھیں چھوڑ نہیں سکتے۔یہ طبقہ اس زمانہ میں وقف عارضی کے لئے نہیں آسکتا۔یہ سہ ماہی جو گزر چکی ہے ایسی تھی جس میں طالب علم وقف عارضی کے غرض سے باہر جاسکتے تھے اور میرے خیال میں بہت سے طالب علم گئے ہونگے۔آئندہ سہ ماہیوں میں ایسے نوجوان جو کالج و سکول میں پڑھنے والے ہیں کم ملیں گے لیکن کم از کم اس تعداد کو جو گزشتہ سہ ماہی میں وقف عارضی میں جا چکی ہے پورا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے گو یہ تعداد بھی ہماری ضرورت کے لحاظ سے کم ہے لیکن ابھی ابتدا ہے اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دے گا اور وہ اور ترقی کرے گی انشاء اللہ۔غرض جماعت کے عام عہدہ دار اور مربی صاحبان وقف عارضی کی طرف زیادہ توجہ دیں۔میں جب مربیوں کی رپورٹیں دیکھتا ہوں ان کے کام کا جائزہ لیتا ہوں ، وہ مجھے ملتے ہیں یا ان کے حق میں بعض تعریفی کلمات آتے ہیں یا ان کے خلاف شکایات مجھے پہنچتی ہیں تو میرے ذہن میں ایک مجموعی تاثر قائم ہوتا ہے اور بہت سے مربیوں کے متعلق میرے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان خوش بختوں نے اپنے مقام کو پہچانا نہیں اور جو خوش بختی ان کے مقدر میں لکھی جاسکتی تھی اس پر وہ اپنے ہاتھ سے چرخیاں ڈال رہے ہیں۔مربی کو ایک نمونہ بن کر دنیا کے سامنے آنا چاہئے اور وہ نمونہ آنحضرت ﷺ کا نمونہ ہے مگر وہ اسکی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ حقیقتا جتنے مربی ہمارے پاس ہیں وہ تعداد کے لحاظ سے بہت کم ہیں لیکن ان کی تعداد کے لحاظ سے بھی ایک چوتھائی کام ہورہا ہے اور تین چوتھائی کام ان کی غفلتوں کے نتیجہ میں نہیں ہوتا وہ گھر بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے کام کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کے اندر قربانی کی روح جوش اور جنوں کی کیفیت نہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بڑا رنج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی رحمتوں کے اس قدر وسیع دروازے کھولے تھے مگر وہ ان کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے ہیں اور اس طرف قدم بڑھانے کا نام نہیں لیتے ان کو دعا کرنی چاہئے اور میں تو دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں کو دور کرے اور ان کی بصیرت اور بصارت کو تیز کرے اور انکے دل میں اس محبت کے شعلہ میں اور بھی شدت پیدا کرے جو ایک مربی کے دل میں اپنے رب کریم و رحیم کے لئے ہونی چاہئے۔پس مربیوں کو بھی چاہئے اور عام عہد یداروں کو بھی الله