خطبات وقف جدید — Page 136
136 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1966 ء بیت المبارک ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے آیات نَبِّي عِبَادِى إِنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَ أَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ (الحجر: 51،50) پڑھیں، پھر فرمایا: ان دو مختصر آیات قرآنی سے قبل اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ میری طرف آنے کا یہی ایک سیدھا راستہ یہی ایک صراط مستقیم ہے یعنی وہ راستہ جسے اسلامی شریعت دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے، جسے قرآن کریم کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے اور جو شریعت تا قیامت دنیا میں رکھی جائے گی اور اس کی حفاظت کی جائے گی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ جولوگ حقیقتا میرے بندے ہیں ان پر شیطان کا کسی قسم کا کوئی تسلط نہیں ہوگا کیونکہ وہ میری پناہ میں ہیں میں انھیں شیطان سے دور رکھتا ہوں اور نیکیوں کی انھیں توفیق عطا کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی انسان کو آزادی ضمیر بھی عطا کی گئی ہے اس لئے وہ جو میری بندگی سے باہر نکلنا چاہیں وہ ایسا کر سکتے ہیں اور ایسے گمراہ لوگوں پر ہی شیطان اپنا تسلط جماتا ہے۔فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنی مرضی سے صداقت اور ہدایت کی راہوں کو چھوڑ کر گمراہی اور ضلالت کی راہوں کو جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں اختیار کریں گے تو وہ جہنم میں ہی گریں گے۔وہ جہنم جسے خدا کے غضب اور قہر نے بھڑ کا یا ہے اسی جہنم سے قرآن کریم کے ذریعہ لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ (البروج: 13) جب خدا کسی پر اس کی غفلت ، کوتاہی یا گناہ یا ظلم کی وجہ سے گرفت کرتا ہے تو خدا کی وہ گرفت بڑی ہی سخت ہوا کرتی ہے اس لئے انھیں خدا سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں اور انھیں چاہئے کہ تقویٰ کی سب راہوں کو اختیار کریں تا جہنم کا کوئی دروازہ بھی ان کے لئے کھلانہ رہے جہنم کے سب دروازے ان کے لئے بند ہو جائیں اس لئے کہ تقوی کی سب راہوں کو انھوں نے اختیار کیا تھا۔پھر فرمایا کہ جولوگ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں انھیں جان لینا چاہئے کہ تقویٰ کی یہ راہیں انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغوں اور اس کی رحمت کے چشموں تک لے جاتی ہیں جہاں وہ بے خوف وخطر سلامتی کی فضا میں سانس لیں گے ان کے سینوں میں سے سب کینے نکال باہر پھینکے جائیں گے اور ان کے