خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 527
خطبات طاہر جلد ۹ 527 خطبہ جمعہ کا استمبر ۱۹۹۰ء ہو یا نہیں ہو۔یہ الگ بحث ہے لیکن ہم جھوٹوں کے مددگار نہیں ہیں اور یہ اعلان کھول کر سب تک پہنچا دینا چاہئے۔جب تک یہ وضاحت نہیں ہوئی اس وقت تک جو غلطیاں ہوئی ہیں ان سے اگر صرف نظر کر لیا جائے تو اس خیال سے کہ ایک گندی عادت میں لوگ مبتلا ہو گئے ہیں انہوں نے ٹھوکر کھالی۔اُن کے لئے بھی تو بہ کا دروازہ کھلنا چاہئے۔اس پہلو سے اگر نظر انداز کر دیا جائے تو ایسا مضائقہ نہیں ہے لیکن تو بہ کی طرف مائل کرنے کے بعد اس بات کا اقرار لے کر کہ آئندہ آپ کس دینی، دنیاوی منفعت کی خاطر جھوٹ نہیں بولیں گے اور اگر بولیں گے تو پھر ہم سے کسی فیض کی توقع نہ رکھیں۔اس صرف نظر کا یہ مقصد نہیں کہ انہوں نے جو جھوٹ بولا ہے جماعت اس کی تصدیق کرے۔جماعت نے ہرگز کسی جھوٹ کی تصدیق نہیں کرنی، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مطلب یہ ہے کہ جماعتی پہلو سے اس کو سزا نہ دی جائے، اگر پہلے کوئی غلطی ہوگئی ہے اور آئندہ کے لئے کوئی انسان تو بہ کرتا ہے لیکن آئندہ کے لئے سختی سے ایسے لوگوں کا محاسبہ ہونا چاہئے۔دوسرا دوستوں کی مجالس کا بھی نگران ہونا چاہئے اور یہ بات اپنے دوستوں میں عادتا کہنی چاہئے یعنی اسے منتقلاً اپنی روز مرہ کی گفتگو میں عادت کے طور پر داخل کر لینا چاہئے کہ جھوٹ کے خلاف باتیں کریں۔جھوٹ کے بداثرات کے متعلق باتیں کریں۔یہ بتائیں کہ کس طرح سوسائٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔کس طرح ہمارا ملک پاکستان یا ہندوستان یا دوسرے ممالک جھوٹ کی وجہ سے موت کے کنارے تک پہنچے ہوئے ہیں۔تمام اخلاقی قدریں تباہ ہوگئی ہیں۔کسی پہلو سے سوسائٹی میں امن نہیں رہا۔اگر جھوٹ نہ ہو تو رشوت پہنپ ہی نہیں سکتی۔اگر جھوٹ نہ ہو تو جرائم کے ارتکاب پر کسی قسم کی چھوٹ مل ہی نہیں سکتی۔جیسا کہ ہمارے ملک میں موجود ہے۔جھوٹ نہ ہو تو لازماً انصاف حاصل ہوتا ہے۔یہ جو نا انصافیاں اور ظلم جتنے بھی چل رہے ہیں غریبوں کی جائدادوں پر قبضے، چوری، ڈاکے، تمام کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔پس مجالس میں کھول کر ایسی باتیں کرنی چاہئیں اور سمجھانا چاہئے کہ ہمیں ان عادتوں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔جھوٹ کے معاملے میں گھروں میں بھی جہاد ہونا چاہئے۔وہ مائیں یا والدین جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پاک طبیعت رکھتے ہیں ان کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہئے اور اس معاملے میں پوری سختی کرنی چاہئے یعنی سختی سے مراد یہ نہیں کہ ان کو بید مارے جائیں۔مراد یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ جھوٹ بولتا ہے تو اس سلسلے میں اپنی