خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 9
خطبات طاہر جلد ۹ 9 خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۹۰ء روشنی میں تعمیر کی جاتی ہیں۔جن کی پرورش اللہ تعالیٰ کے کلام کی روشنی میں کی جاتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کی جو جماعت پیدا کی، ان پر شہد کی مکھی کی یہ مثال پوری طرح صادق آتی ہے۔پھر فرمایا: اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔اس چیز میں ایک بہت بڑا نشان ہے ان لوگوں کے لئے جو فکر کرنے والے ہیں۔پہلی مثال بیان کرتے وقت عقل کا ذکر کیا اور دوسری مثال بیان کرتے وقت فکر کا ذکر کیا۔اس میں کیا فرق ہے؟ یہ فرق بھی میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقل کی تعریف فرمائی اور دو جہتوں سے عقل کی تعریف فرمائی۔فرمایا: ما خلق الله خلقا اكرمه عليه من العقل (مرقاة المفاتح شرح مشكاة المصابیح کتاب الادب) که خدا تعالی نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جس کو اس کی عقل کی نسبت سے زیادہ عزت دی ہو۔یعنی ہر مخلوق کی عزت کا مقام اس کی عقل سے طے ہو گا۔درجہ بدرجہ ہر مخلوق کو خدا تعالیٰ نے عقل کے مختلف مراحل پر قائم فرمایا ہے۔یا مختلف حیثیتوں کی عقلیں عطا کی ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں اس عقل کا ذکر فرما رہے ہیں جو فطرت میں ودیعت کی جاتی ہے جس میں انسان کی اپنی کوشش کا کوئی دخل نہیں اور ہر ذی روح کے لئے عقل کا ایک مقام مقرر ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور تمام حیوانات میں اس کی عزت کا مقام بھی وہ عقل کا مقام طے کرتا ہے۔اس حدیث میں بہت ہی گہری حکمت ہے۔آپ تمام بنی نوع انسان پر نظر ڈال کر دیکھیں اور پھر نیچے اتر نا شروع کریں درجہ بدرجہ حیوانات پر نظر ڈال کر دیکھیں۔تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ان میں سے حقیقت میں اکرام کا مقام اس کو نصیب ہے نسبتا اور تناسب کے لحاظ سے جو زیادہ صاحب عقل ہے۔پس اس پہلو سے جب میں نے ایک دفعہ ماریشس کی یورنیورسٹی میں Evolution پر تقریر کی تو میں نے یہ نقطہ نگاہ پیش کیا کہ سائنس دان تو حیوانات کے درجے اور طرح سے مقرر کرتے ہیں اور درجہ بدرجہ ان کو اس طرح تقسیم کرتے ہیں کہ ان کے جسموں کی حالت اور ان کے ماحول میں جو ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے، ان کی ظاہری شکل میں ان کو جو ایک خاص مقام حاصل ہے۔کسی کی ریڑھ کی ہڈی ہے کسی کی نہیں ہے، کسی کے اندروہ Section بنے ہوئے ہیں جیسا کہ کیڑوں مکوڑوں میں بھی پائے جاتے ہیں، کسی میں نہیں بنے ہوئے۔اس طرح مختلف طریق پر