خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد ۹ 87 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء اس میں تمام دنیا سے متعلق ایک پیشگوئی تھی جو، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ایک تمنا تھی جو پیشگوئی کا رنگ اختیار کر گئی لیکن اللہ کی ذات پر تو کل تھا کہ وہ اسی طرح دنیا کو دکھا دے گا اور جیسا کہ ہمیں یقین ویسے بھی تھا کیونکہ یہ وہ مضمون ہے جس کا تعلق در حقیقت پرانی پیشگوئیوں سے ہے اس آیت کریمہ سے ہے جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی۔اس لئے اس بارے میں تو قطعاً کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ ایسا ہونا تھا اور لازماً ہو کر رہنا تھا میں نے جو شعر میں تمنا کا اظہار کیا اس سے مراد یہ تھی کہ یہ زمانہ قریب آچکا ہے اور ہمارے دیکھتے میں یہ واقعات رونما ہونے شروع ہو جائیں گے اور جماعت کو میں نے تسلی دلائی کہ ایسا ہونے والا ہے۔پس اس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور غیر معمولی شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ہماری توقع سے بھی جلدی ان باتوں کو دکھا دیا اور ان تبدیلیوں کی بنیادیں ڈال دیں۔اس مضمون سے متعلق میں جماعت کو کچھ وضاحت کے ساتھ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جو عظیم الشان اور حیرت انگیز تبد یلیاں بڑی تیزی کیساتھ دنیا میں رونما ہورہی ہیں۔ان تبدیلیوں کو جہان نو کے نقشے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان تبدیلیوں کا اس شعر کے پہلے حصے سے تعلق ہے جو یہ ہے کہ اُلٹ رہی ہے با ط دنیا جو تبدیلیاں آپ کو روس میں یا دیگر مشرقی یورپ کے ممالک میں ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ان پر یہ امید نہ لگائیں کہ یہ ایک نئے نقشے کی بنیاد میں ڈالی جارہی ہیں۔یہ پرانے نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے جو عظیم نظام دنیا کے ایک فلسفی نے خدائی نظام کے مقابل پر بنایا تھا یہ اس کے انہدام کا دور ہے اس لئے محض ان تبدیلیوں کو جہان نو کا نقشہ سمجھ کر خوشی کے نعرے لگانا درست نہیں ہے۔ان تبدیلیوں سے متعلق ابھی تک انسان اور جب میں انسان کہتا ہوں تو اس سے مراد ہے کہ انسانوں میں سے وہ دانشور جن کے ہاتھوں میں دنیا کی بڑی بڑی قوموں کی باگیں تھمائی گئی ہیں وہ انسان بھی ابھی تک ان تبدیلیوں کے متعلق یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ان کے نتیجے میں کیا ہونے والا ہے۔شروع میں ہر ایک نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور بڑے بڑے دعاوی کئے کہ دیکھو کیسے عجیب واقعات رونما ہورہے ہیں اور خوشی کا اظہار اس رنگ میں کیا گویا یہ تمام واقعات ان کی تائید میں ہور ہے ہیں حالانکہ