خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد ۹ 698 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء اس آیت میں دو احکام جاری فرمائے گئے ہیں اور دونوں احکامات کے ساتھ ایک ایک سوال دل میں اٹھتا ہے۔فرمایا: تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔سوال یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق کیا ہے؟ کیسے تقویٰ کا حق ادا ہوگا ؟ دوسرا ارشاد یہ ہے کہ ہرگز نہ مروجب تک تم مسلمان نہ ہواور مرنا اپنے اختیار میں نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ہم اپنی موت پر اختیار رکھیں گے۔کس طرح اس حکم کی اطاعت کر سکتے ہیں جبکہ ہمیں علم نہیں ہے کہ کس وقت موت ہمیں آجائے۔در حقیقت اس آیت کے یہ دونوں ٹکڑے جو یہ دو سوال اٹھاتے ہیں ایک دوسرے کا جواب ہیں۔اگر تم خدا کا ویسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے تو اس کے نتیجے میں تم ہمیشہ اپنے نفس کی ایسی حفاظت کرتے رہو گے کہ جس سے تم اپنے آپ کو ہر وقت اطاعت کی حالت میں رکھو گے۔یہاں مسلم سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم اسلام لے آؤ کیونکہ مخاطب ہی مومنوں کو فرمایا گیا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تمہیں ہم حکم دیتے ہیں کہ اسلام کی حالت میں مرو اور اس حالت کے سوا کسی اور حالت میں ہرگز نہ مروتو یہاں اسلام لانے سے مراد اطاعت ہے۔خدا کی اطاعت کا اختیار کرنا اور خدا کے سپر در ہنا تو تقویٰ کا حق ہی ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تقویٰ کا حکم ہے لیکن ہمیں علم نہیں کہ تقویٰ کیسے اختیار کیا جاتا ہے۔ان کے لئے یہ آیت ان کے اس سوال کا عمدہ جواب پیش کرتی ہے کہ تقویٰ اس طرح اختیار کیا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے ہرلمحہ نگران رہو کہ کسی وقت بھی ایسی باغیانہ حالت نہ ہو کہ اگر تم اس حالت میں مرجاؤ تو تم پر اس آیت کا مضمون صادق نہ آسکے اور یہ جو مضمون ہے کہ اپنی زندگی کی ہر حالت میں نگرانی کرنا۔یہ ایک بہت ہی مشکل مضمون ہے کیونکہ بسا اوقات انسان ماحول سے پیدا ہونے والے اثرات کے نتیجے میں جو ردعمل دکھاتا ہے وہ رد عمل تقویٰ سے ہٹا ہوتا ہے اور سپردگی کا رد عمل اسے نہیں کہا جا سکتا۔چنانچہ دنیا میں جتنے بھی عوامل انسان کی فطرت پر عمل پیرا ہوتے ہیں ان کا تجزیہ کر کے آپ دیکھ لیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر عمل کے نتیجے میں انسان کا رد عمل بالعموم تو ازن سے ہٹ کر ہوتا ہے اور جہاں بھی انسان تو ازن کھو بیٹھے وہاں تقویٰ کی راہ گم ہو جاتی ہے اور ایک باغیانہ حالت پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو مزید گہرائی میں جا کر اگر باریکی سے اس کا مطالعہ کریں تو یہ مضمون نہ صرف یہ کہ زندگی کے ہر لمحے پر حاوی ہے بلکہ ہر لمحے پر نگرانی کا طریق بتاتا ہے۔مثلاً ایک آدمی عام حالت میں بغیر کسی ہیجان کے