خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد ۹ 56 50 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء اندھے ایمان والوں کے اسلام کے لئے بھی وہ ایک عظیم نمونہ تھے۔حیرت انگیز اطاعت کا جذ بہ ان کے اندر پایا جاتا تھا۔ایک آواز پر اٹھنا ایک آواز پر بیٹھنا کوئی ان سے سیکھتا۔اطاعت امیرایسی تھی کہ نظروں کو چندھیا دینے والی تھی۔اپنے اسلام کے عمل میں ایسے سادہ تھے کہ ایمان عجائز کا اسلام معلوم ہوتا تھا یعنی ایمان عجائز کے نتیجہ میں اسلام پیدا ہوتا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ علم و عرفان میں وہ بڑے بڑے مدمقابل کے منہ بند کرنے والے تھے۔یونائٹیڈ نیشنز کی سطح پر ان کو تقاریر کا موقعہ ملا مختلف عدالتوں میں وہ پیش ہوئے مختلف عدالتوں کے وہ چیف جسٹس بنے ، ہندوستان کی سپریم کورٹ کے ممبر ہوئے۔انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں وہ پریزیڈنٹ بھی رہے غالباً لیکن ممبر تو بہر حال ضرور تھے۔اتنے عظیم مقامات اتنے بڑے مقامات نصیب ہوئے لیکن وہ سب لوگ جنہوں انہیں قریب سے دیکھا ہے اور انگلستان کی جماعت اس پر گواہ ہے کہ کیسی ان میں اطاعت کی روح تھی۔پس جماعت احمد یہ اپنی ذات میں اسلام کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور جماعت احمد یہ کا ایمان دوسروں کے لئے ایمان بخش بن جاتا ہے اگر صاحب دانش بار یک نظر سے جماعت احمدیہ کے مختلف طبقات پر نظر رکھے اور ان کا موازنہ کرے تو یہ بات اس کو معلوم ہو جائے گی کہ یہ ایسے ایمان پر قائم ہیں جہاں علم کی روشنی ایمان کوکم نہیں کرتی بلکہ زیادہ کر کے دکھاتی ہے اور اندھے ایمان اور دانشور کے ایمان میں تفریق نہیں پیدا کرتی یعنی اگر تفریق ہے تو صرف ان معنوں میں کہ دانشور کا ایمان اندھے ایمان والے کے ایمان سے زیادہ ہے، زیادہ پختہ، زیادہ واضح اور اسی نسبت سے اس کا عمل بھی بہت زیادہ قوی اور قطعی ہوا کرتا ہے۔ان کے درمیان ایک طبقہ پیدا ہوتا ہے جو جہالت اور علم کے چھٹے میں زندگی گزارتا ہے۔اس پر دن کی روشنی پوری طرح واضح نہیں ہوا کرتی دماغ تیز ہو جاتا ہے لیکن دین کا سچا علم اور ایمان کمزور ہوتا ہے۔یہ ایسے لوگ ہیں جن کے ایمان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پناہ مانگی ہے۔آپ نے فرمایا کہ فلسفی کے بودے ایمان سے مجھے بچے کا ایمان زیادہ پیارا لگتا ہے۔پس احمدیت میں بھی ہمیں بعض ایسے طبقے دکھائی دیتے ہیں جو اپنی دانست میں دانشور بنتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے احمدیت کے حقیقی دانشور گواہ بن جاتے ہیں کہ یہ دانشور نہیں یہ انہی جھٹپٹے میں زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں جو نہ دن کے بندے ہیں، نہ رات کے بندے ہیں، درمیان کی کیفیت میں پائے جاتے ہیں۔تھوڑی بہت سمجھ آگئی تھوڑا بہت