خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 788
خطبات طاہر جلد ۹ 788 خطبہ جمعہ ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء ہے اور خدا تعالیٰ محض رد عمل کی صورت میں غضبناک ہوتا ہے جیسا کہ میں نے تفصیل سے آپ کو سمجھایا ہے کہ ایک ماں اپنے رحم کی وجہ سے غضبناک ہوتی ہے۔پس خدا کی یہ شان ہے کہ یہاں غضب کے مضمون میں یہ اشارہ فرما دیا کہ اگر چہ بعد میں آپ یہ بھی دیکھیں کہ خدا تعالیٰ غضب ناک ہوا لیکن سورہ فاتحہ نے یہ اشارہ کر دیا اور یہ مضمون کھول دیا کہ دراصل غضب کا آغاز بندے کی طرف سے ہوتا ہے اور اپنے غضب کے نتیجے میں وہ مغضوب بنایا جاتا ہے۔پھر ایسا شخص بندوں کا بھی مغضوب ہو جاتا ہے اور خدا کا بھی مغضوب ہو جاتا ہے۔پس ضمیر کو واضح نہ کرنے کے نتیجے میں مضمون میں اور کشادگی پیدا کر دی اور وسعت پیدا فرما دی کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستے پر نہ ڈال دینا جو Waste Product ہیں۔جو سورہ فاتحہ کے روحانی نظام سے گزرتے ہیں یعنی سورہ فاتحہ کا روحانی نظام تو وہی ہے جو ساری دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پھیلا پڑا ہے۔کیونکہ اگر قرآن کی ماں ہے تو ساری کائنات کی ماں بھی سورہ فاتحہ بن جاتی ہے۔پس اے خدا! جو تیرے روحانی نظام سے جس کا ذکر تو نے سورہ فاتحہ میں فرمایا ہے استفادہ نہیں کر سکتے ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو کلیۂ محروم ہو جاتے ہیں اور وہ مغضوب ہیں۔ان پر بندے بھی غضبناک ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بندوں پر غضبناک ہونے کے نتیجے میں تو نے ان کو غضب کا نشانہ بنایا ہے۔پس چونکہ وہ بندوں سے ظلم اور سفا کی کا سلوک کرتے ہیں رفتہ رفتہ ان کے خلاف نفرتیں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر آخر وہ یہاں تک بار بار بندوں کے غضب کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور چونکہ وہ خدا کے بندوں سے غضب کا سلوک کرتے ہیں اس لئے آسمان سے وہ خدا کے غضب کا نشانہ بھی بنائے جاتے ہیں اس طرح دوہری لعنتوں کا شکار ہو جاتے ہیں ان لوگوں میں ہمیں نہ داخل فرمانا، ہمیں ان بدنصیبوں میں نہ لکھ دینا۔ہمیں ان خوش نصیبوں میں لکھنا جو تیرے روحانی نظام سے گزر کر اس سے فیض پا کر ایک نئی خلقت کے طور پر دنیا میں اُبھریں اور نئی عظیم الشان بنی نوع انسان کو فائدہ دینے والی صورت میں ایک نیا وجود پائیں۔یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا جو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی صورت میں جا کر پھر مکمل ہوتی ہے۔الصَّالِينَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو الْمَغْضُوبِ کی حد تک تو خدا کی ربوبیت اور رحمانیت سے نہیں کاٹے گئے مگر کچھ نہ کچھ تعلق انہوں نے ضرور توڑا ہے اس لئے ان کو گمراہوں میں