خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد ۹ 787 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء چلا جارہا ہے اور وہ Waste Material ایسی خطرناک چیز بن کر دنیا کے سامنے اُبھرا ہے کہ اس کے غضب سے دنیا ڈرنے لگی ہے اور یہ بڑا بھاری مسئلہ ہے۔دنیا کی تمام بڑی قوموں میں اب بہت ہی زیادہ فکر کے ساتھ ان مسائل پر غور ہو رہا ہے کہ کس طرح ان مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کریں جو صنعت کے دوران By Product کے طور پر یا Waste Product کے طور پر ہمارے ہاتھوں میں پڑی ہوئی ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ کس طرح اس صنعت سے چھٹکارا حاصل کریں۔مذہبی دنیا میں یہ Waste Product ہے جو بنی نوع انسان کے لئے تباہی کے سامان کرتی ہے اور بعض دفعہ جس طرح دنیا میں بھی بعض چیزوں میں Waste زیادہ ہو جاتا ہے اور جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ بہت تھوڑی ہوتی ہے اسی طرح بد قسمتی سے بعض دفعہ انسانوں پر ایسے دور آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے اصلاحی نظام سے گزرتے ہوئے بہت کم ہیں ان میں جو فائدہ اُٹھا ئیں اور ایک بھاری تعداد میں جو Waste Material کے طور پر ایک طرف پھینک دی جاتی ہے۔چنانچہ حضرت نوح" کے زمانے میں آپ دیکھیں اسی طرح ایک روحانی کارخانہ جاری ہوا تھا جیسے ہرنبی کے زمانے میں جاری ہوتا رہا لیکن بنی نوع انسان کی ایک بھاری تعداد ایسی تھی جو Waste Material تھا اور بہت تھوڑے تھے جو کارخانے سے اپنی آخری مکمل صورت میں نکھر کر دنیا کے سامنے ظاہر ہوئے۔پس خدا تعالیٰ نے ان نکھرے ہوئے وجودوں کو تو بچا لیا اور Waste Material کو ضائع کر دیا۔بنی نوع انسان کے پاس ایسا کوئی طریق نہیں ہے کہ وہ Waste Material سے کلیۂ نجات حاصل کر سکیں۔اسی لئے مذہب کے Waste جمع ہوتے ہوتے بالآ خر یعنی وہ Waste جن کو عبرت کا نشان بنا کر یا اور صورتوں میں یا بعض بعد کے فوائد کے لئے باقی رکھا جاتا ہے۔بعض دفعہ Recycle کرنے کے لئے بھی Waste کو باقی رکھا جاتا ہے، وه Waste الْمَغْضُوبِ بن کر اور الضَّالِّينَ بن کر بنی نوع انسان کو مصیبت ڈال دیتے ہیں۔یہاں خدا تعالیٰ نے لفظ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ رکھا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ خدا اُن پر غضبناک ہوا۔مغضوب کا مطلب ہے وہ لوگ جن پر غضب کیا گیا یا غضب کا مورد بنائے گئے یا بنائے جارہے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا! ہمیں ان کا رستہ نہ دکھانا جن پر تو غضبناک ہوا۔اس لئے کہ غضب دراصل ان بندوں سے شروع ہوتا ہے اور خدا سے نہیں ہوتا۔غضب کا آغا ز بندے سے ہوتا