خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 811
تفرقه تفرقہ لازماً آگ تک پہنچاتا ہے ۷۰۵ ۱۷ ہر قسم کا ظلم فی ذاتہ تقویٰ کے خلاف ہے تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسلامی اقدار سے وفا کی جائے ۴۶۶ تقویٰ اور اسلام میں فرق ۳۱۱ تفسیر ملکہ سبا کے پنڈیوں سے کپڑا اٹھانے کے متعلق تقوی کا خدا تعالیٰ کے عرفان سے تعلق ہے ۳۱۴ تقویٰ ایمان کے نتیجے میں ڈھلنے والے عمل کا نام ہے ۳۱۴ علماء کی لغو تفاسیر اور اس کی پر حکمت وضاحت ۶۱ ۶۲ تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے تقوی تقویٰ کی ایک تعریف کا عقل کی تعریف پر انطباق 11 اپنے اور اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کے معیار بلند کریں ۵۴۷، ۵۳۷ تقویٰ کا تمام انحصار اللہ تعالے پر ہوتا ہے اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کے معیار بڑھانے کی فکر کرنی چاہیے ۵۵۲ ۵۵۷ ہمیشہ تقویٰ کو عزت دیں کیونکہ خدا تقومی کو عزت دیتا ہے ۶۳۷،۵۵۴ تقویٰ کو پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے تقوی کی جڑیں جتنی گہری ہونگیں اتنا ہی زیادہ ۵۵۸ دلی محبت کا نام تقویٰ ہے ۳۱۴ ۳۱۶ ۳۱۶ ۳۱۶ تقویٰ اسلام کو تقویت بخشتا ہے کسی شخص کے تقویٰ کو براہ راست جانچا نہیں سکتا تقویٰ کے اعجاز اسلام کے پردے سے ظاہر ہوتے ہیں ۳۱۹ تقوی سے دل کو سکینت مل جاتی ہے تقویٰ والے عالم بقاء میں پہنچ جاتے ہیں تقوی در حقیقت خدا کی محبت کا نام ہے خدا کے سپرد ہونا حقیقت میں تقویٰ چاہتا ہے ۳۱۹ ۳۱۹ ۳۲۳ ۳۲۴ تقویٰ اختیار کرتے ہوئے حبل اللہ کو مضبوطی سے تھا میں ۶۹۷ تقویٰ اختیار کر وجیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے تقویٰ کا درخت نشو ونما پاتا ہے جب تقوی دل سے اٹھ جئے تو ہر تم کی روحانی بماری پیدا ہو جاتی ہے ۲۶ ہر وقت خدا کے حضور سر بسجو در ہنا اور اس کی اطاعت کرنا ۴۹۷ تقویٰ سے فراست پیدا ہوتی ہے عقل کل اور تقویٰ دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۴۹۷ آنکھوں کی ٹھنڈک کا تقویٰ سے تعلق باندھنا ۳۷۵ ۳۹۱ اپنی دعاؤں کو بھی تقوی کالباس پہنائیں اخلاق کے بقاء کی بنیاد تقویٰ ، حسن خلق کی بنیاد تقویٰ ۳۸۴ انسانی تعلقات میں دباؤ کے وقت تقویٰ کام آتا ہے ۳۸۳ تقویٰ کے حصول کے لئے دعاؤں کی تلقین متقیوں کا امام بننے کے لئے خود متقی بنیں جہاں انتخاب تقویٰ کی بنیاد پر نہ ہو وہاں ترقی کا رُخ تنزل کی جانب مٹر جاتا ہے ۳۸۲ ۳۷۹ ۳۹۴ محض تقومی کی بنیاد پر اپنے سرداروں کا انتخاب کیا کرو ۳۹۴ جبہ پوش اور دستار بند تقوی سے خالی لوگ ۴۶۰ اسلامی یا غیر اسلامی ملک تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پورا نہیں اتر تا ۴۷۰ تقوی ہے متکبر کے لئے لقاء ناممکن ہے تکبر سے بچنے کے طریق تکبر انسان اور خدا میں جدائی پیدا کرتا ہے تکبر خدا کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا متکبر پر آیت کی تکذیب آتا چلا جاتا ہے تکبر سے بچیں اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کریں تکبر جیسی کوئی بلا نہیں ہے تکبر دکھانے کیلئے بھی ایک عارف باللہ کی انگلی چاہیے جو اپنی طاقتوں پر بھروسہ کر کے دعا مانگنے میں ست ہے وہ بھی متکبر ہے تکبر کے ساتھ جو تصحیح کرتا ہے اس نے بھی تکبر کیا ہے اللہ تعالی متکبر کا سب سے پہلے سر توڑتا ہے تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو ۶۹۸ 2+1 ۱۷۹ ۱۸۳ 1^2 IAZ ۱۸۹ ۱۹۷ ۱۹۹ ۲۰۰ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲