خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 805
۳۲۵ حقیقی امن جماعت احمدیہ کے مخلصین سے وابستہ ہے کے دل کے حالات معلوم کر سکے عالمی امن رحمۃ اللعالمین کے دست شفقت سے ہی مل سکتا ہے ۶۷۹ انسانی تعلقات میں مختلف رخنے امن عالم کو سب سے بڑا خطرہ عصبیت اور خود غرضی سے ہے ۶۷۹ آخری سانس تک ثبات قدم انسان کی آخری تمنا اصلاح انسان کے اپنے بس کی بات نہیں جب تک یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا ایک بڑے امن کے دور میں داخل ہورہی ہے امین ۶۸۵ ولایت نصیب نہ ہو انسانی اعمال خود بتاتے ہیں کہ وہ اپنے دعوئی میں بچے ہیں یا جھوٹے جتنا امانت میں خیات کرے گا اتنا ہی محنت کے پھل ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے نیکی کا ایک دائرہ بخشا ہے خطروں کے وقت انسان کی سچائی آزمائی جاتی ہے ۲۴۶ میں کمی آتی جائے گی جتنا کوئی امین ہوگا اتنا ہی اس کی محنتوں کو بہتر پھل لگے گا ۲۴۶ انسان کا اعلیٰ اور لطیف چیزوں کا ادراک ۲۴۷ انسان کی پیدائش یو نہی اتفاقا نہیں ہوئی امین اور غیر امین میں فرق اگر امین نہیں تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی ۲۴۷ ارب ہا ارب سال کے دور سے گزر کر انسان اگر آپ امین ہیں تو خدا سب سے بڑھ کر امین ہے ۲۵۲ اس مقام تک پہنچا ہے انتقام انتقام تو اعتدال کی راہ نہیں دیکھا کرتا انجام باخدا انسان کی بات میں قوت عطا کی جاتی ہے ۶۹۱ جب انسان خدا کو بھلا دیتا ہے تو پھر خدا بھی اس کو بھلا دیتا ہے انجام بخیر سے مراد اپنی نیکی کا انتہائی عروج حاصل کریں ۴۵۷ ہر انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہے انجام بخیر کی دعا کی طرف اولیاء نے بہت توجہ کی ہے اندلس سپین انڈونیشیا انسان ۴۵۷ انسان جو خدا پر یقین رکھتا ہے اس کے اندھیرے ۱۴۱،۱۳۸ ۴۴۷ ، ۴۴۵ ،۴۳۳،۱۳۶ بھی روشن ہو جاتے ہیں در حقیقت انسان اپنے گناہوں اور کمزوریوں سے واقف نہیں ہونا چاہتا انسان اپنے نفس پر بصیرہ “ تو ضرور ہو ۳۱۳ ۳۸۳ ۴۰۲ ۴۳۱ ۴۵۶ ۴۵۷ ۵۳۴ ۵۳۹ ۵۴۰ ۵۴۰ ۵۴۲ ۵۸۱ ۵۸۷ ۵۸۹ ۶۰۸ ۶۰۸ قرآن کریم میں تین مثالوں میں مختلف انسانی حالتوں کا بیان ۳ جہاں بھی انسان توازن کھو بیٹھے وہاں تقویٰ کی راہ گم ہو جاتی ہے ۶۹۸ کا انسانوں کیلئے شہد کی مکھی کی مثال میں معرفت کا گہرا نقطہ کے خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہمیشہ معتدل رہتا ہے انسان کا سر عظمت کے لحاظ سے صرف خدا کے آگے جھکنا چاہئے ۱۳ با خدا انسان کا رد عمل کبھی بھی حسد سے تجاوز نہیں کرتا انسان خدا تعالیٰ کا نظارہ اپنے وجود میں دیکھ سکتا ہے ہر انسان کا آسمان الگ الگ آسمان ہے آخری درجہ ساتواں آسمان عام بندوں کا درجہ ہے انسان ہر قسم کی کوشش کرتا ہے کہ وہ زیادہ دیر اس دنیا میں سانس لے سکے ۱۸۱ ۱۹۱ ۱۹۱ ۲۹۸ ہر انسان کا اپنا علم عرفان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۷۲۳ نفس پر غور کرنے سے انسان کو خدا سے شناسائی ہوتی ہے ۷۲۹ اگر انسان آنکھیں بند نہ کر سکتا تو اس کا نظام عصبی تباہ اور برباد ہو جاتا ۷۴۱ ۷۵۸ انسان روزمرہ کی زندگی میں تو رحمان نہیں بنتا کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ کسی دوسرے