خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 75

خطبات طاہر جلد ۹ 75 خطبه جمعه ۲ار فروری ۱۹۹۰ء ہیں۔اسی طرح جماعت احمد یہ مالی قربانی میں ایسا ہی نمونہ پیش کرتی ہے۔بلکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت نمونے دکھاتی ہے۔بچپن میں جب ہم باغوں میں پھرا کرتے تھے یا جنگلوں میں جاتے تھے۔بیریوں کے نیچے کھڑے ہو کر اچھے اچھے بیروں کو دیکھتے تھے۔تو کئی دفعہ یہی طریق اختیار کیا کرتے تھے جب پکے ہوئے بیر ہوں تو روڑے مارنے کی بجائے دو تین لڑکے مل کر درخت کو ہلاتے تھے اور اگر وہ تھوڑا سا ہل جائے اس میں ایک قسم کا چھوٹا سا زلزلہ آ جائے تو اس سے بکثرت بیر گرتے تھے، اتنے کہ پھر سنبھالے نہیں جاتے تھے تو وہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایمان کی دولت نصیب ہو۔ان کی ایمان کی دولت ہی دراصل ان کی دنیاوی دولت کو خدا کی راہ میں نچھاور کرنے کی وجہ بنتی ہے۔جتنا کوئی دل کے لحاظ سے اور روحانیت کے لحاظ سے مالدار ہو اتنا ہی وہ خدا کی راہ میں غیر معمولی قربانیاں دکھاتا ہے۔بسا اوقات مجھے ایسے غریب مربیان کی طرف سے مالی قربانی کی پیشکش ہوتی ہے کہ میں حیران رہ جاتا ہوں۔ان کے متعلق میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ان کے پاس سوائے اس معمولی گزارے کے جو جماعت ان کو دیتی ہے اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے لیکن رقم خواہ تھوڑی ہو ، اس کو وہ بڑی مشکل سے اور بڑی قربانی کر کے جماعت کے لئے بچاتے اور پیش کرتے ہیں اور ان کے خطوں سے معلوم ہورہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ قربانی پیش کرتے وقت ان کو عظیم روحانی سرو مل رہا ہوتا ہے۔پس یہ وہ رہبان ہیں جو سچائی کے رہبان ہیں۔جو روشن دلوں کے رہبان ہیں۔ان کی غربت واقعہ خدا کی خاطر ہوتی ہے اور اس غربت میں بھی وہ خدا کی خاطر قربانیاں کرنے والے ہوتے ہیں۔مہ پہلے ہمارے وہ اس مضمون کو میں نے آج آپ کے سامنے اس لئے چھیڑا کہ کچھ ایڈیشنل وکیل المال یعنی جن کو میں نے انگلستان میں رضا کارانہ طور پر وکیل المال مقرر کیا ہوا ہے۔محمد شریف اشرف صاحب وہ میرے پاس آئے کہ آپ افریقہ کیلئے ،فلاں جگہ کیلئے ، فلاں جگہ کیلئے جو مطالبہ آئے منظور کرتے چلے جارہے ہیں، اتنا خرچ کر رہے ہیں آپ کو پتہ نہیں کہ اس وقت مالی تنگی ہوگئی ہے ایک سال جو گزشتہ ایک سال ہے۔ان کی مراد یہ تھی کہ یہ صد سالہ تشکر کا سال، اس سال میں انہوں نے مجھے بتایا کہ اتنا خرچ ہوا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ آپ منظور یاں دے رہے ہوں اور خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہ رہے اس لئے یہ تھوڑا سا حساب بھی کبھی دیکھ لیا کریں۔ان کو میں نے کہا