خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 789
خطبات طاہر جلد ۹ 789 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء لکھا ہے اور خصوصیت کے ساتھ وہ لوگ الضالین ہیں جن کا خدا کی بعد میں آنے والی صفات سے زیادہ تعلق کا ٹا گیا ہے یعنی اگر چہ ربوبیت سے بھی یہ کچھ تعلق کاٹ دیتے ہیں اور رحمانیت سے بھی لیکن رحیمیت اور مالکیت سے یہ بہت زیادہ قطع تعلقی کرتے ہیں اور جن کا تعلق مالکیت سے کٹ جائے وہ الضّالِّينَ ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کی تفصیل میں بھی جانے کا یہاں وقت نہیں مگر میں نے پہلے چونکہ ذکر کر دیا تھا اس لئے میں اس تعلق کو اس ذکر سے جوڑتا ہوں اور وہ ذکر میں نے یہ کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معرفت کا یہ عظیم الشان نکتہ ہمیں سمجھایا کہ عیسائیوں پر جو و بال ٹوٹا ہے وہ خدا کی صفت مالکیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اور اس پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔وہ خدا کو محض عادل سمجھتے ہیں اور مالک نہیں سمجھتے اور قانون دان نہیں سمجھتے اور قانون کا مالک نہیں سمجھتے اس لئے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ عدل کے تقاضوں سے بالا ہو کر بندوں سے مغفرت کا سلوک نہیں کر سکتا۔جس نے مالک سے تعلق تو ڑا وہ الضَّالِّينَ میں شامل ہو گیا اور الضالین کے متعلق ہمیں علم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور بعض دوسرے مفسرین نے آنحضور کی ہدایات کی روشنی میں جو تفاسیر لکھی ہیں ان میں یہ بات بہت کھول کر بیان کی گئی ہے کہ اگر الْمَغْضُوبِ یہودی ہیں تو الضالین عیسائی ہیں۔پس ضال ہونے کا یعنی گمراہ ہونے کا خصوصیت کے ساتھ مالک کے انکار سے تعلق ہے اسی لئے میں نے جو آپ کے سامنے یہ اشارہ رکھا ہے کہ مغضوبیت زیادہ تر ربوبیت اور رحمانیت سے منقطع ہونے کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے اور الضالین ہونا زیادہ تر رحیمیت اور مالکیت سے قطع تعلق ہونے کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے یعنی صال بننا۔بہر حال اس مضمون کو چھوڑتے ہوئے اب میں آگے بڑھتا ہوں۔ایک اور بہت اہم بات سورہ فاتحہ کے متعلق آپ کو یاد رکھنی چاہئے کیونکہ آپ بار بار اس کو نماز میں پڑھتے ہیں اور پڑھتے رہیں گے تو اس کا مضمون بہت وسیع ہو کر آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے۔اس لئے کہ ہر وقت انسان ایک حال میں نہیں ہوتا اور سورہ فاتحہ ایک ایسی عظیم الشان سورۃ ہے جو انسان کے ہر حال سے تعلق رکھنے کے لئے مزاج رکھتی ہے اور وسعت رکھتی ہے۔اس لئے آپ جتنا زیادہ سورہ فاتحہ کے مزاج سے شناسا ہوں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے کسی نہ کسی حال میں یہ آپ کے کام آسکے گی ورنہ بعض