خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد ۹ 786 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء کہ جیسے ایک کارخانے میں آپ ایک طرف سے کوئی چیز Raw Material یعنی خام مال ڈالتے ہیں تو وہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور اعلی تکمیل کی شکل میں ایک طرف سے نکل رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ایک طرف وہ گند بھی نکل رہا ہوتا ہے جو اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کارخانے میں داخل ہونے کے بعد اپنے اندر ایسی تبدیلی کر سکے کہ اسے ایک مکمل صنعت کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے، اس کو وہ Waste Product کہتے ہیں۔پس ایک چیز ہے End Product اور ایک ہے -Waste Product End Product تو ہر صنعت کا وہ مال ہے جس کی خاطر صنعت کاری کی جاتی ہے اور کارخانے بنائے جاتے ہیں اور اپنی آخری شکل میں بہت خوبصورت تبدیلیاں پیدا ہونے کے بعد وہ ایک نئے وجود کی صورت میں خام مال دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔اب اس وقت آپ کے پاس جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب اسی طرح کسی نہ کسی کارخانے سے نکل کر ایک نئی شکل میں آپ کے سامنے ظاہر ہوئی ہیں۔کسی نے کپڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، کسی نے اون کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، کسی نے قراقلی پہنی ہوئی ہے۔اب تصور کریں کہ یہ کیا چیزیں تھیں۔اسی طرح آپ کے لباس، آپ کے بوٹ، آپ کے قلم یہ سب خام مال تھے جو مختلف مراحل سے گزر کر بالآخر اس شکل میں آپ تک پہنچے جس میں آپ نے ان کو قبول کیا اور استعمال کیا لیکن آپ کا ذہن اس گندگی کی طرف کبھی نہیں گیا جو اس دوران پیدا ہوتی رہی اور ان چیزوں سے الگ کی جاتی رہی اور اسے ضائع شدہ مال کے طور پر ایک طرف پھینک دیا گیا۔چنانچہ اس زمانہ میں صنعتوں نے جہاں بہت ترقی کی ہے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر دنیا کے سامنے اُبھرا ہے کہ اس Waste Material کا کیا کریں۔یہ تو دنیا کے لئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔جب یہ کم ہوا کرتا تھا اس زمانے میں انسان کی توجہ بھی اس طرف نہیں گئی اور آج سے سو سال پہلے بھی صنعتکاری تھی۔بڑے بڑے کارخانے جاری تھے لیکن کبھی بھی اس زمانے کی اخباروں میں آپ کو یہ بخشیں دکھائی نہیں دیں گی کہ یہ جو اچھی چیزیں بنانے کی ہم کوشش کرتے ہیں اس کوشش کے دوران جو چیزیں ضائع ہو رہی ہیں ان کا ہم کیا کریں۔وہ سمندروں میں پھینک دیتے تھے یا عام کھلی جگہ پر پھینک دیتے تھے یا جھیلوں میں ڈال دیتے تھے اور کبھی اُن کے نقصان کی طرف کسی کی توجہ نہ گئی۔اب چونکہ زیادہ چیزیں بن رہی ہیں اسی طرح Waste Material بھی بڑھتا