خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 785
خطبات طاہر جلد ۹ 785 خطبہ جمعہ ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء ہے اپنی رحمانیت کی وجہ سے۔پس دو معنوں میں ایسے لوگ مغضوب بن جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ لوگ جو نہ رب بنا سیکھتے ہیں، نہ رحمان بننا، نہ رحیم ، نہ مالک، ان سے دنیا فیض نہیں اٹھاتی۔ان کا فیض کسی کو نہیں پہنچتا۔وہ خدا کی اس رحمت اور بندوں کے درمیان یا خدا کی صفات حسنہ اور بندوں کے درمیان ایک روک بن جاتے ہیں اور محض یہ روک بننا ہی ان کو خدا کے عتاب کا مورد بنا دیتی ہے لیکن جب یہ روک سے بڑھ کر اگلا قدم اُٹھاتے ہیں اور منفی صورت میں بندوں سے سلوک کرتے ہیں یعنی جہاں رحم کرنا ہے وہاں سفا کی سے پیش آئیں، جہاں حق سے بڑھ کر عطا کرنا ہے وہاں حق تلفی شروع کر دیں، جہاں پرورش دے کر یعنی تربیت کر کے اعلیٰ مقامات تک پہنچانا وہاں منفی رویہ اختیار کریں اور خدا کے اچھے بھلے لوگوں کے اخلاق خراب کرنا شروع کر دیں۔ان کے اندر گندگی پھیلانا شروع کر دیں جیسا کہ آجکل کے زمانے میں بہت سی گندگیاں ہیں جو امریکہ سے نکل نکل کر سب دنیا میں پھیل رہی ہیں تو امریکہ میں وہ لوگ جو نہایت گندی قسم کی فحش فلمیں بناتے اور ایسی نئی نئی لذتیں ایجاد کرتے ہیں جس سے بنی نوع انسان کے اخلاق خراب ہوں وہ نہ صرف یہ کہ رب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ رب کے برعکس تعلقات بنی نوع انسان سے قائم کرتے ہیں یا رب سے برعکس رویہ کے ساتھ بنی نوع انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں تو یہ جو ان کا منفی رویہ ہے اگر واقعۂ خدا رب ہے تو اس کی ربوبیت کو کاٹنے والے سے خدا کا ایک منفی رویہ ظاہر ہوتا ہے۔اگر وہ رحمان ہے تو اس کی رحمانیت سے بر عکس طریق پر بنی نوع انسان سے سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ کا ایک برعکس رویہ ظاہر ہوتا ہے اور یہی مضمون ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی تمام منفی صفات ظہور میں آتی ہیں۔پس جب خدا تعالیٰ نے فرمایا: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس کے بعد وہ لوگ جو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی صف میں داخل نہیں ہوئے اور ان کے حق میں یہ دعا قبول نہیں ہوئی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو وه وه بچا کھچا گند ہے جو الْمَغْضُوبِ اور الضَّالِّينَ کی شکل میں ہم پر ظاہر کیا گیا ہے۔ان معنوں میں وہ ظاہر ہوئے کہ خدا کی صفات کے منفی عکس بن کر وہ دنیا پر ابھرے۔اس ضمن میں میں ایک دفعہ غور کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو زیادہ واضح طور پر مجھے سمجھائے تو کشفی حالت میں خدا تعالیٰ نے یہ مضمون ایک اور رنگ میں مجھے دکھایا اور وہ یہ تھا