خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 74

خطبات طاہر جلد ۹ 74 خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۹۰ء اسی آیت میں ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ خوب وہ جھوٹ اور فریب کے ذریعے لوگوں کے پیسے کھا رہے ہوتے ہیں۔ان قوموں میں مالی بد دیانتی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ان کے لئے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔یادرکھیں جو دھو کے اور فریب سے کھانے والے لوگ ہیں وہ سچائی کی راہوں پر خرچ نہیں کر سکتے۔وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ان کے مقابلے روپے جمع کرنے کے مقابلے ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے مقابلے نہیں ہوا کرتے۔پس یہ وہ ایسی تفریق ہے جو انسان کے بنائے بن نہیں سکتی۔بالکل ناممکن ہے کہ بحیثیت قوم جو جھوٹی ہو وہ اس منظر کی بجائے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے اس کے مقابل کا خوبصورت منظر دکھا سکے اور وہ لوگ جو قرب نبوت کے مناظر پیش کرتے ہیں ان کو کوئی دنیا میں جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ تمام دنیا میں یکا و تنہا جماعت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔کوئی اور مثال نہیں ہے کہ اس پہلو سے بحیثیت جماعت ایک عظیم الشان مالی قربانی کا نمونہ پیش کر رہی ہو۔بعض دفعہ جماعت میں مالی قربانی کے لئے غیر معمولی جوش پیدا ہوتا ہے۔بعض دفعہ کبھی کبھی کسی جگہ کچھ غفلت بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ایک طبعی چیز ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی جب دینی ضروریات غیر معمولی طور پر بڑھتی تھیں تو آنحضرت غیر معمولی رنگ میں تحریک اور تحریص فرمایا کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں دلوں میں جو ایمان کی دولت موجود تھی وہ ظاہری دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر مجبور کر دیا کرتی تھی۔یہی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھی۔یہی کیفیت بعد میں تمام خلفاء کے زمانے پر پائی گئی لیکن خواہ وقتی طور پر کچھ کمزوری بھی دکھائی گئی ہو۔یہ میرا تجربہ ہے اور جماعت کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جب بھی جماعت کو ہلایا گیا ہے اور بیدار کیا گیا ہے تو جس طرح بعض دفعہ پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت کو ہلانے سے کثرت سے پھل گرنے شروع ہو جاتے