خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 783
خطبات طاہر جلد ۹ 783 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء کوئی بندہ اس رنگ میں کسی کے احسان کو قبول نہیں کرتا جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔تو ایک رنگ میں بندے نے احسان کا سلوک کیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے احسان کا سلوک فرمایا اور کہا تو نے جو کچھ تیرا تھا مجھے دے دیا۔اب میرا جو کچھ ہے وہ تیرا ہو گیا۔انہیں معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ ” جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو ( تذکرہ صفحہ :۳۹۰) کہ اے بندے اگر تو میرا ہو جائیں یعنی اپنی مالکیت کو ختم کر کے سب کچھ مجھے واپس لوٹا دے تو اس کے بدلے جو سب کچھ میرا ہے وہ تیرا ہو جائے گا۔تو مالک کا لفظ ایک بہت ہی عظیم الشان صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ان معنوں میں ہر دوسری چیز پر حاوی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت مالک کے ساتھ مل کر ایک نئی شان کے ساتھ دوبارہ اُبھرتی ہے اور نئی شان کے ساتھ جلوہ دکھاتی ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تو اس میں صفت مالکیت خصوصیت کے ساتھ پیش نظر رہنی چاہئے اور ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت ان سب کو مالکیت کی ذات میں اکٹھا کر کے پھر خدا کو مخاطب کرنا چاہئے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔اس مضمون کے بعد میں نے انعام کا مضمون مختصر بیان کیا تھا، اب آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں که الْمَغْضُوبِ اور الضَّالِّينَ کا خدا تعالیٰ کی ان صفات سے کیا تعلق ہے جو سورہ فاتحہ کے آغاز میں بیان ہوئی ہیں۔یعنی رب کے تصور کے ساتھ کہیں غضب اور گمراہی کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔رحمان کے تصور کے ساتھ کہیں غضب اور گمراہی کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔اسی طرح نہ رحیمیت کے ساتھ تعلق دکھائی دیتا ہے نہ مالکیت کے ساتھ تو پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا تعلق ان چار صفات سے ہے جو بنیادی حیثیت رکھتی ہیں جو سورہ فاتحہ کے آغاز میں بیان ہوئی ہیں اس مضمون پر غور کرتے ہوئے ایک نکتہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے بندے بننے کے لئے خدا تعالیٰ کی تمام صفات کے ساتھ تعلق ہونا ضروری ہے۔جس صفت کے ساتھ تعلق کہتا ہے اس حصے میں انسان اس صفت کا بر عکس ہو کر دنیا میں اُبھرتا ہے۔پس اگر کوئی انسان رب بننے کی کوشش نہیں کرتا تو ربوبیت