خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 766 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 766

خطبات طاہر جلد ۹ 766 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء کے تعلقات دوسرے بچوں سے اور دوسرے بنی نوع انسان سے منفی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے مگر اس کو آپ انسانی دائروں میں پھیلائیں تو آپ کے لئے اپنا جائزہ لینا بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔جب بھی آپ کسی سے تعلقات قائم کرتے ہیں تو وہ ایک لمحہ اپنے نفس کی اندرونی حالت کو جانچنے کا ہوتا ہے۔تعلقات کس قسم کے قائم ہورہے ہیں، کیوں ہورہے ہیں؟ کیا ان تعلقات میں ربوبیت کا کوئی عنصر ہے بھی کہ نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آپ کے تعلقات کو وضاحت سے کھول کے آپ کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے اور جب بھی تعلقات کروٹیں بدلتے ہیں اور لاشعوری حالت سے شعوری میں اُبھرتے ہیں تو وہ وقت بھی ایسے ہوتے ہیں جب آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ آپ واقعةُ رَبِّ الْعَلَمِینَ بننے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں۔بعض تعلقات جاری و ساری ہیں اور وہ ایک قسم کے لاشعور میں رہتے ہیں۔مثلاً اپنے ماحول سے گرد و پیش سے، جانوروں سے تعلقات، یہ اگر چہ دبے ہوئے تعلقات ہیں لیکن ہیں سہی کیونکہ جس کا ئنات میں ہم سانس لے رہے ہیں یہاں لازماً ہمارے اس سے تعلقات ہیں۔ایک بچہ چھوٹی سی بندوق لے کر شکار پر نکلتا ہے اور جب وہ شکار کرتا ہے تو اس کا جانور سے ایک قسم کا تعلق قائم ہوتا ہے۔یہ لاشعور سے شعور میں اُبھر آتا ہے۔اس وقت اگر وہ شکار کرتا ہے اور ربوبیت پر نظر رکھتے ہوئے ان معنوں میں خدا کی حمد کرتا ہے کہ مالک وہی ہے اور رب بھی وہی ہے اس نے ہر شخص کے رزق کے انتظام فرمائے ہوئے ہیں اور میرا جو اس جانور سے تعلق ہے بظاہر میں شکاری ہوں لیکن یہاں خدا کی ربوبیت میرے لئے جلوہ دکھا رہی ہے جس طرح اسی پرندے کے لئے اس نے اس وقت جلوے دکھائے جب یہ چھوٹے چھوٹے جانوروں کا شکار کر کے خدا کی ربوبیت کے مزے چکھتا تھا۔تو ربوبیت کا مضمون بظاہر اس صورت میں متصادم ہونے کے باوجود ایک نئی شکل میں آپ کے سامنے ظاہر ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ ایک پہلو سے رب بنتا ہے اور دوسرے پہلو سے بظاہر ربوبیت کی نفی ہورہی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں ایک بنیادی قانون ہے جو ہمیشہ کارفرما ہے اور وہ یہ ہے کہ بہتر کے لئے ادنی کو قربان کیا جائے گا۔یہاں ربوبیت ایک اور رنگ میں آپ کے سامنے اُبھرتی ہے مگر وہی بچہ جب آگے بڑھتا ہے اور ایک ایسے جانور کو جو خدا نے خوبصورتی کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کے کھانے کے کام نہیں آسکتا یا ایسے جانور کو جو خدا تعالیٰ نے صفائی کے لئے مقرر فرمائے ہوئے