خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد ۹ 758 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۹۰ء اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب آپ رحمانیت میں سفر شروع کرتے ہیں تو آپ یہ سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ربوبیت بہت وسیع طور پر اثر انداز دکھائی دیتی ہے اور قانون قدرت اور تخلیق میں کارفرما نظر آتی ہے لیکن جب کچھ بھی نہ ہو تو رحمانیت کے سوا کسی چیز کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ رحمن کے اندر بن مانگے دینے والے کا معنی پایا جاتا ہے یعنی ابھی سائل کا وجود ہی پیدا نہیں ہوا ۔ کوئی کچھ مانگنے کے لئے دربار میں حاضر نہیں ہوا لیکن اس کے لئے عطا کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ پس حقیقت میں تخلیق کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے اور علم کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے۔ تخلیق کا تعلق تو آپ کو فوراً سمجھ آ گیا، جب آپ دوبارہ اس آیت پر غور کریں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ رحمان کے ساتھ تخلیق کو کیوں باندھا تھا۔ الرَّحْمَنُ : عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے اور رحمان ہی تھا جس نے قرآن عطا کیا تخلیق کے لئے رحمانیت کا جوڑ سمجھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کی بہترین مثال پیش فرمادی ۔ انسان تخلیق کی وہ آخری شکل ہے جس میں سب سے زیادہ رحمانیت جلوہ گر ہے کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ وہ چیزیں عطا ہوئی ہیں جو بن مانگے عطا ہوئیں اور جو درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہیں۔ کوئی اور مخلوق اس میں انسان کا مقابلہ نہیں کرتی بلکہ تمام کائنات کا خلاصہ انسان ہے۔ تو خَلَقَ الْإِنْسَانَ کا فاعل رحمان قرار دے دینا اور یہ فرمانا کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے ، نہ صرف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کا آغاز رحمانیت کے نتیجے میں ہوا ہے بلکہ تخلیق پر غور کرنے سے سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں رحمان کو خالق کہا گیا کیونکہ وہی مضمون دوبارہ اُبھرتا ہے جو میں نے آپ سے پہلے بیان کیا ہے کہ ہر تخلیق میں ضرورت واجبی کے علاوہ چیزیں عطا کی گئی ہیں ۔ ۔ ضرورت حقہ کا لفظ میں نے پہلے استعمال کیا تھا غالباً ضرورت واجبی کہنا زیادہ درست ہے یعنی وہ کا غالبا ضرورت جو کم سے کم ہے جس کے پورا ہو جانے کے بعد چیز کو بقاء نصیب ہو جاتی ہے اور پیاس بجھ جاتی ہے۔ وہ ضرورت پورا کرنے کے بعد اگر مزید کچھ عطا کیا جائے تو وہ واجبی ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے لئے رحمان کا ہونا ضروری ہے ورنہ آپ روزمرہ کی زندگی میں تو رحمن نہیں بنتے ۔ مزدور نے جب آپ کا کوئی کام کیا ہو تو بالعموم انسان کم سے کم دے کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ اکثر مالکوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نوکروں بیچاروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ تمہاری ضرورت پوری