خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 758 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 758

خطبات طاہر جلد ۹ اس 758 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء مضمون پر غور کرتے ہوئے جب آپ رحمانیت میں سفر شروع کرتے ہیں تو آپ یہ سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ربوبیت بہت وسیع طور پر اثر انداز دکھائی دیتی ہے اور قانون قدرت اور تخلیق میں کارفرما نظر آتی ہے لیکن جب کچھ بھی نہ ہو تو رحمانیت کے سوا کسی چیز کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا۔کیونکہ رحمن کے اندر بن مانگے دینے والے کا معنی پایا جاتا ہے یعنی ابھی سائل کا وجود ہی پیدا نہیں ہوا۔کوئی کچھ مانگنے کے لئے دربار میں حاضر نہیں ہوا لیکن اس کے لئے عطا کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔پس حقیقت میں تخلیق کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے اور علم کا بھی رحمانیت کے ساتھ تعلق ہے۔تخلیق کا تعلق تو آپ کو فوراً سمجھ آ گیا ، جب آپ دوبارہ اس آیت پر غور کریں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ رحمان کے ساتھ تخلیق کو کیوں باندھا تھا۔الرَّحْمنُ نُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ فى عَلَمَهُ الْبَيَانَ کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے اور رحمان ہی تھا جس نے قرآن عطا کیا۔تخلیق کے لئے رحمانیت کا جوڑ سمجھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کی بہترین مثال پیش فرما دی۔انسان تخلیق کی وہ آخری شکل ہے جس میں سب سے زیادہ رحمانیت جلوہ گر ہے کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ وہ چیزیں عطا ہوئی ہیں جو بن مانگے عطا ہوئیں اور جو درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہیں۔کوئی اور مخلوق اس میں انسان کا مقابلہ نہیں کرتی بلکہ تمام کائنات کا خلاصہ انسان ہے۔تو خَلَقَ الْإِنْسَانَ کا فاعل رحمان قرار دے دینا اور یہ فرمانا کہ رحمان نے انسان کی تخلیق کی ہے ، نہ صرف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تخلیق کا آغاز رحمانیت کے نتیجے میں ہوا ہے بلکہ تخلیق پر غور کرنے سے سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں رحمان کو خالق کہا گیا کیونکہ وہی مضمون دوبارہ اُبھرتا ہے جو میں نے آپ سے پہلے بیان کیا ہے کہ ہر تخلیق میں ضرورت واجبی کے علاوہ چیز میں عطا کی گئی ہیں۔ضرورت حقہ کا لفظ میں نے پہلے استعمال کیا تھا غالبا ضرورت واجبی کہنا زیادہ درست ہے یعنی وہ ضرورت جو کم سے کم ہے جس کے پورا ہو جانے کے بعد چیز کو بقاءنصیب ہو جاتی ہے اور پیاس بجھ جاتی ہے۔وہ ضرورت پورا کرنے کے بعد اگر مزید کچھ عطا کیا جائے تو وہ واجبی ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے لئے رحمان کا ہونا ضروری ہے ورنہ آپ روز مرہ کی زندگی میں تو رحمن نہیں بنتے۔مزدور نے جب آپ کا کوئی کام کیا ہو تو بالعموم انسان کم سے کم دے کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔اکثر مالکوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نو کروں بیچاروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ تمہاری ضرورت پوری