خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد ۹ 753 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء بات ایک بہت ہی معمولی حیثیت رکھتی ہے لیکن سوچ کا ایک طریقہ ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس طرح آپ سورۃ فاتحہ پر غور کرنا شروع کریں اور پھر رحمانیت پر غور کر کے رحیمیت پر آئیں اور وہاں جا کر دیکھیں کہ اور باتوں کے علاوہ رحیمیت میں بار بار دینے کا مفہوم ہے اور اس رنگ میں بار بار دینے کا مفہوم ہے کہ محنت ضائع نہ جائے بلکہ زیادہ ہو کر واپس ملے تو ساری کائنات میں رحیمیت پھیلی ہوئی دکھائی دینے لگے گی۔ایک پہلو سے جب آپ خدا کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ باقی ساری صفات غائب ہوگئی ہیں وہی اصل صفت تھی لیکن ربوبیت سے جب رحمانیت میں داخل ہوتے ہیں تو ہر طرف رحمان خدا کا نظارہ دکھائی دینے لگتا ہے۔رحمانیت سے جب رحیمیت میں جاتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جہاں رحیمیت کارفرما نہ ہو۔انسانی جسم کے تمام اجزاء میں اور انسان کے تمام ارکان میں ، اُس کے اعضاء میں ہر چیز سے جو انسان بنا ہوا ہے انسان رحیمیت کے سبق پڑھ سکتا ہے۔گردو پیش پر دیکھیں ، ایک زمیندار کو بڑے علم کی ضرورت نہیں۔وہ جانتا ہے کہ میں موسموں سے فائدہ اُٹھاتا ہوں اور موسم آتے جاتے رہتے ہیں۔ایک موسم میں کھودیتا ہوں تو اگلا موسم دوبارہ وہی مواقع لے کر میرے حضور حاضر ہو جاتا ہے اُس موسم سے میں فائدہ اُٹھا تا ہوں اور پھر وہ موسم نکل جاتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ یہ کمی رہ گئی ہے وہ کمی رہ گئی لیکن پھر وہ دوبارہ چکر لگا تا ہوا میرے پاس پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے اچھا اب کمیاں پوری کرلو۔موسم کے بار بار آنے میں کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن اس سے فائدہ اُٹھانے میں کمی رہ جاتی ہے۔پس بعض لوگ ایسے ہیں جن کا رحیمیت سے تعلق اس طالب علم کی طرح ہوتا ہے جو ہر امتحان کے وقت سوچتا ہے کہ جو ہو چکا وہ ہو چکا اگلے امتحان کی دفعہ میں یہ سب تیاریاں کروں گا تا کہ یہ نقص بھی نہ رہے، یہ نقص بھی نہ رہے اور اگلا امتحان پھر بھی آتا ہے لیکن وہ پھر تیاریوں سے محروم رہ جاتا ہے۔تو استفادہ کرنے کا کام ہمارا ہے لیکن جہاں تک افادہ کا تعلق ہے فائدہ پہنچانے کا تعلق ہے، رحیمیت ہر بار اپنے سب جلوے لے کر آتی ہے اور بار بار آتی ہے، رحیمیت کا مضمون بھی اتنا وسیع ہے کہ ایک خطبہ چھوڑ بیسیوں خطبات میں بھی مضمون کی نشاندہی بھی پوری نہیں کی جاسکتی لیکن یہ مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے کہ اس مثال پر غور کرتے ہوئے اپنے علم کو بڑھائیں، اپنے عرفان کو بڑھائیں، کسی بیرونی علم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کے حواس خمسہ یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ آپ کو