خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد ۹ 748 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۹۰ء رسائی پاتا ہے اور مضامین کو جذبات میں ڈھال کر پھر سورۂ فاتحہ میں ایسی کیفیت کے رنگ بھرتا ہے جس سے سورۃ فاتحہ کوئی اجنبی چیز ، بیرونی چیز نہیں رہتی بلکہ اس کے دل کی واردات بن جاتی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو نماز کے متعلق یوں بیان فرمایا کہ دیکھو نمازیں جو تم پڑھتے ہو ان میں الفاظ وہی ہیں جو سب پڑھتے ہیں لیکن کیفیتیں الگ دیکھونمازیں جوس الگ ہوتی ہیں اور کوئی نماز فائدہ نہیں دے سکتی جب تک تم اس کو اپنی کیفیت سے نہ بھرو ۔ کیفیت سے بہتر اور کوئی لفظ اس منظر کی تصویر کشی نہیں کر سکتا ، اس صورت حال کو بیان نہیں کر سکتا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لفظ کیفیت رکھ کر تمام مضامین کو یہاں مجتمع کر دیا۔ کیفیت اس آخری احساس کا نام ہے جو مختلف چیزوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا خلاصہ کیفیت ہے۔ اگر سائنسی زبان میں اس کی بات کریں تو اگر چہ ہم مختلف تصویریں دیکھ رہے ہوتے ہیں یا مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں ، خوشبوئیں سونگھ رہے ہوتے ہیں ہمس سے لذت پارہے ہوتے ہیں اور اس طرح حواس خمسہ ہمارے لئے مختلف قسم کی دلکشیوں کے سامان لاتے ہیں لیکن آخری صورت میں وہ Electric Pulses ہیں جن میں تبدیل ہوتے ہیں اور بجلی کی وہ لہریں ہی ہیں جو ہمارے دماغ تک پہنچتی ہیں وہاں نہ رنگ پہنچتا ہے نہ خوشبو پہنچتی ہے نہ لمس سے کچھ حصہ وہاں پہنچتا ہے نہ نمک کا احساس نہ میٹھے کا احساس جو کچھ پہنچتا ہے وہ بجلی کی لہروں کی صورت میں پہنچتا ہے، اس کا نام کیفیت ہے جو انسان محسوس کرتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز میں لذت پیدا کرنے اور افادیت پیدا کرنے کے لئے ہمیں یہ نسخہ عطا فرمادیا کہ وہ نمازیں جن میں کچھ کیفیت شامل ہو گی وہ کارآمد نمازیں ہیں ۔ وہ نمازیں جو کیفیت سے خالی ہوں گی اُن سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور وہ ایسے برتنوں کی طرح ہیں جن میں کچھ بھی بھر انہیں ۔ پس نمازوں میں کیفیت پیدا کرنے کی خاطر میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ کون سی چیزیں کیفیت پیدا کرنے کے لئے ممد ہوتی ہیں ۔ کیفیت از خود پیدا نہیں ہو جاتی۔ کیفیت کے لئے حواس خمسہ سے مدد لینا ضروری ہے اور حواس خمسہ جو پیغامات پہنچاتے ہیں وہ پیغامات دماغ کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو کر کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ پس علم بڑھانا اور گہری نظر سے کائنات کا مطالعہ کرنا ، خدا تعالیٰ سے شناسائی حاصل کرنا اور حواس خمسہ جو خدا نے عطا فرمائے ہیں اُن کے ذریعہ خدا کی حمد تک پہنچنا یہ وہ مضمون ہے جس کا زندگی