خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد ۹ 730 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول اور محمدکھائی دیتا ہے لیکن اُس کے باوجود انسان جسے سب سے زیادہ عقل دی گئی ہے، سب سے زیادہ نا سمجھ ہے۔لَّا تَفْقَهُونَ تم اُن کی تسبیح کو سجھتے ہی نہیں۔کیسا تم غور کر رہے ہو کہ نہ خدا تعالیٰ کی کائنات پر غور کر کے خدا کی یاد تمہارے دل میں پیدا ہوتی ہے نہ جن چیزوں پر غور کرتے ہو یہ سمجھ سکتے ہو کہ وہ کیوں ان باتوں میں مصروف ہیں جو تمہیں دکھائی تو دیتی ہیں مگر سمجھ نہیں آتی۔اس کے بعد اگلی آیت کا تعلق بظاہر اس مضمون سے نہیں لیکن فی الحقیقت اسی سے ہے اور اسی کی انگلی کڑی ہے لیکن وہ میں بعد میں بیان کروں گا۔اب میں اس مضمون کے پہلے حصے کو ذرا زیادہ کھول کر بیان کرتا ہوں۔انگلستان میں آجکل بدھ کے روز رات کو جو زندگی کی مختلف شکلیں ہیں اُن سے متعلق David Attenbrough کی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔David Attenbrough ایک بیالوجسٹ ہے جو اس فن میں غالباً آج تمام دنیا کے زندہ لوگوں میں سب سے زیادہ ماہر ہے کہ مختلف جانوروں کی زندگی کے حالات کو فلمائے یعنی ویڈیو کے ذریعے اور پھر اُن کی ایسی حالتوں میں اُن کو پکڑ لے جو عام طور پر نظر سے اوجھل رہتی ہیں اور اس طریق پر پھر پیش کرے کہ جس کے نتیجے میں ایک حیرت انگیز منتظم زندگی کا نقشہ ہمارے سامنے اُبھرتا ہے اور مختلف پہلوؤں کو وہ لیتا ہے اور اُن پہلوؤں سے تعلق رکھنے والے مختلف جانوروں کی فلمیں پھر اکٹھی کر دیتا ہے اور ایک وسیع نظر میں آپ کو کسی زندگی کے ایک پہلو پر مختلف جانوروں کی قدر اشتراک دکھائی دینے لگتی ہے۔اس کی مثال میں آپ کو دوں گا تو پھر بات آپ کو سمجھ میں آجائے گی۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی تخلیق پر غور کیا ہے اور بہت سے گہرے رازوں سے پردے اٹھائے ہیں مگر کم اُن میں سے وہ خوش نصیب ہیں جو اس کے نتیجے میں ذکر الہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔وہ ان چیزوں کو دیکھ تو رہے ہیں لیکن اُن پر یہ آیت صادق آتی ہے کہ تم سمجھتے نہیں اُن کی تسبیح کو کیونکہ تمہارا اپنا مزاج تسبیح کا نہیں ہے۔نہ تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کیا حرکتیں کر رہے ہیں اور کیوں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور کیسے تسبیح کرتے ہیں۔نہ تمہارا اپنا ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ یہ تو حیرت انگیز خدا تعالیٰ کی تخلیق کے کرشمے ہیں۔جس طرح ایک مصور کے شاہکار کو دیکھ کر ذہن وہیں نہیں اٹکا رہتا بلکہ مصور کی طرف منتقل ہوتا ہے اور اُس کی تعریف کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔بعینہ یہی نتیجہ کا ئنات پر غور کرنے کا نکلنا چاہئے تھا اور جب بھی خدا تعالیٰ کی نئی نئی صنعتیں اور حیرت انگیز تخلیق کے کارنامے ہمارے سامنے آتے اُسی حد تک ، اُسی شناسائی کے